کشمیر تنازع، جوہری جنگ کے خدشات میں اضافہ

(دنیا ٹوڈے) امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کی حالیہ صورت حال جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے لیے چنگاری فراہم کرسکتی ہے۔

جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم، اسٹریٹ فور کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیر تنازع کو ‘اندرونی امور’ یا باہمی مسئلے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا’۔

رپورٹ کے مطابق ’16 اگست کو یہ تنازع جوہری سطح پر آن پہنچا تھا جب بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ نے بھارت کی ‘پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے انکار’ کے نظریے سے انحراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں جو بھی ہوگا وہ صورتحال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرے گا اور صورتحال پُرامید نہیں ہیں’۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ‘نیو یارک ٹائمز کے نمائندے کی جانب سے سے کیے گئے مقبوضہ وادی کے حالیہ دورے میں ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی تھی، جب ان کی گاڑی اس کے قریب پہنچی تو چرواہے نے فوری ان کی گاڑی کی کھڑکی کی جانب بڑھا اور کہا کہ ہم ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار ہیں’۔

رپورٹ میں سوال کیا گیا کہ ‘دہائیوں قبل کشمیری عوام سے ان کی رائے جاننے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کبھی پورا نہیں ہوا، کیا ان سے کبھی سوال کیا جائے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اور پاکستانی فوج دونوں کے پاس اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہیں جو دونوں جانب کے کمانڈرز میدان جنگ میں استعمال کرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘امریکا کی جانب سے 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر کیے گئے جوہری حملے کے بعد یہ پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘گزشتہ پاکستانی حکومتوں نے کشمیری باغیوں کی حمایت کی تھی تاہم موجودہ پاکستانی حکومت مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سابقہ حکومتوں کی روایت پر برقرار نہیں’۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ‘رواں سال فروری میں پاک فوج نے بھارتی طیارہ مار گرایا تھا تاہم یکم مارچ کو اس کے پائلٹ ابھی نندن ورتمان کو بھارت کے حوالے کردیا گیا تھا لیکن نریندر مودی نے اسلام آباد کے جذبہ خیر سگالی کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی ان کی حکومت کشمیر تنازع پر بات چیت کو تیار ہے’۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: