مودی کو ایوارڈ: چیئرمین سینیٹ نے دورہ یو اے ای منسوخ کردیا

ایوان بالا (سینیٹ) کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے پس منظر میں عرب ملک کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

سینیٹ سیکٹریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے متحدہ عرب امارات کا پہلے سے طے شدہ سرکاری دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ یہ دورہ بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورے کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے منسوخ کیا گیا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مودی حکومت کی جانب سے اس وقت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا اور کرفیو نافذ ہے۔

جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘لہٰذا ایسے موقع پر یو اے ای کا دورہ پاکستانی قوم اور کشمیری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی دل آزادی کا باعث بنے گا، اس لیے چیئرمین سینیٹ نے اپنا اور پارلیمانی وفد کا دورہ منسوخ کیا’۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان نے نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور انہیں امارات کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’آرڈر آف زیاد‘ سے نوازا تھا جبکہ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’آپ (ایوارڈ) کے حقدار ہیں‘۔

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیری کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی مقبوضہ وادی میں مرکزی چیک پوائنٹس پر بھیجی گئیں تھیں جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون ہے، اس کے ساتھ ساتھ وادی کے 70 لاکھ لوگوں کے لیے ٹیلی فونک رابطے، موبائل فون، بروڈبینڈ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کو معطل کردیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک کردیا گیا تھا جبکہ اب تک مقبوضہ وادی میں کرفیو بھی نافذ ہے، اس کے علاوہ کم از کم 4 ہزار افراد، جس میں زیادہ تر نوجوان ہیں انہیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: