ایکسٹینشن اور نیا آرمی چیف

خبر گرم ہے کہ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے۔ توسیع کا یہ فیصلہ ملکی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے جس میں خاص طور پر افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو جاری رکھنا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ایک سال کے لیے کی جائے گی یا وہ مزید تین سال آرمی چیف رہیں گے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو جنرل راحیل شریف کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالا تھا اور قواعد کے تحت انہوں نے اس سال 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کی صورت میں ایک نئے آرمی چیف کا انتخاب ہونا ہے جو ملک کے اس مضبوط ترین ادارے کی باگ دوڑ سنبھالے گا لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان جنرل قمر باجوہ کی مدت میں توسیع کرتے ہیں تو پھر بہت سے سینیئر جنرل اس عہدے کا خواب دیکھتے ہوئے ریٹائر ہو جائیں گے۔
اس سال نومبر میں جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی صورت میں سات لیفٹیننٹ جنرل سینیارٹی لسٹ میں سرفہرست ہوں گے۔ ان میں سرفراز ستار، ندیم رضا، ہمایوں عزیز، نعیم اشرف، محمد افضل، شیر افگن، قاضی محمد اکرام اور بلال اکبر شامل ہیں۔ این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے سوا باقی سات افسروں نے کور کمانڈ کی ہوئی ہے جو آرمی چیف بننے کے لیے بنیادی شرط تصور کی جاتی ہے۔

جنرل قمر باجوہ رواں سال نومبر میں ریٹائر نہیں ہوتے اور ان کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی جاتی ہے تب بھی یہ سات لیفٹیننٹ جنرل سینیارٹی لسٹ میں سرفہرست ہوں گے گویا ان میں سے ہی ایک کا بطور آرمی چیف انتخاب ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سات جنرلز کی ترقی 2016 میں ہوئی تھی اور انہوں نے رواں سال تین سال کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جانا تھا لیکن ایک حالیہ فیصلے کے تحت لیفٹیننٹ جنرل کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر چار سال کر دی گئی۔ اس کے نتیجے میں یہ سات سینیر لیفٹیننٹ جنرل اب 2020 میں ریٹائر ہوں گے۔
وزیراعظم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دیتے ہیں تو پھر چار لیفٹیننٹ جنرلز کے سوا اس وقت لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر موجود تمام افسر نومبر 2022 تک ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔ جو چار لیفٹیننٹ جنرل نومبر 2020 میں سینیارٹی لسٹ میں سرفہرست ہوں گے، ان میں ساحر شمشاد مرزا، اظہر عباس، نعمان محمود اور فیض حمید شامل ہیں۔ یعنی وزیراعظم کو ان چار افسروں میں سے کسی ایک کو آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب کرنا ہو گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چیف آف آرمی سٹاف کا انتخاب ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف نے سات آرمی چیفس کے ساتھ کام کیا، ان کے ادوار میں پانچ نئے آرمی چیف بنے جن میں سے تین کا انتخاب انہوں نے خود کیا لیکن جنرل مشرف، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر باجوہ تینوں کے ساتھ میاں نواز شریف کا ورکنگ ریلیشن شپ برقرار نہ رہ سکا۔ وزیراعظم عمران خان کے لیے بھی یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے، کیا وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دے کر سول ملٹری تعلقات کی موجودہ خوش گوار صورتحال کو جاری رکھنا چاہیں گے؟ یا نیا آرمی چیف منتخب کر کے اداروں کو مضبوط بنانے کے اپنے منشور پر عمل کریں گے۔

One comment

  1. Pingback: Dunya Today

x

Check Also

بااثر مسلم شخصیات :عمران خان، ملالہ اور مولانا طارق جمیل شامل

دنیا کی 500 بااثر ترین مسلمان شخصیات کی فہرست میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی ...

%d bloggers like this: