’’چیئرمین نیب کیخلاف خبر وزیراعظم نےچلوائی‘‘

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مبینہ غیراخلاقی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔

سوشل میڈیا صارفین مسلسل ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں اور نئے دعوے اور الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ٹویٹر پر دس ٹاپ ٹرینڈ میں سے پانچ اسی موضوع پر ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کی زیادہ تعداد چیئرمین نیب کے خلاف اسٹیٹس لگانے پر لگی ہوئی ہے تو ان کے حمایتی بھی کم نہیں اور بھرپور انداز میں دفاع کر رہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے کارکن اور سابق بلاگر جبار چودھری نے ٹویٹ کیا کہ اگر آپ کڑی سے کڑی ملائیں تو وزیراعظم تک پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم کے مشیر کے چینل پر چیئرمین نیب کے خلاف خبر ثابت کرتی ہے کہ حکومت نیب سے اپوزیشن سے زیادہ خوفزدہ ہے۔

سینئر صحافی اعزاز سید نے آڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ خاتون کا کہناہے کہ ان کے خلاف نیب کیسز چیئرمین نیب کے مطالبات ماننے سے انکار پر بنائے گئے۔

جیو نیوز کے ہی سید عارفین نے لکھا کہ ویڈیو دھماکہ دار ہے، چیئرمین نیب خود استعفیٰ دے رہے ہیں یا ان کو نکالا جائے گا۔

دادی جی نامی ٹویٹ سے لکھا گیا کہ ویڈیو وزیراعظم کے مشیر کے چینل نے جاری کی ہے جو حکومت کی جانب سے چینلز کی فنڈنگ جاری کرتے ہیں۔

احمد شرجیل کاردار نامی صارف نے بتایا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور فاروق نول نام کے فراڈ نے جاری کرائی ہے۔

بول نیوز کے اسد کھرل نے ٹویٹ میں اخباروں کے اشتہار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بڑے لوگوں کو بلیک میل کرنے والے گروہ کی کارستانی ہے۔

جہانگیر میاں نامی صارف نے اسد کھرل کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنی والی خاتون کو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں ٹھہرایا ہوا تھا اور وہ ان کے ساتھ بنی گالہ بھی جاچکی ہیں۔ یہ ویڈیو عمران خان نے جاری کرائی ہے۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: