سندھ کے بعد پنجاب سے ہندو لڑکی اغوا

سندھ کے بعد پنجاب سے بھی ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا جانے لگا ہے۔

بہاولپور سے تیرہ سال کی لڑکی کو اغوا کرلیا گیا جس پر پر اقلیتی برادری سراپا احتجاج ہے۔

لڑکی کے اہلخانہ اور ہندو برادری نے ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاج کیا۔

لڑکی کے والد لیکھو رام نے الزام لگایا ہے کہ نواحی گاؤں 19 بی سی کے ثنااللہ حاجی صلابت عبدالمجید نے ان کی بچی کو اغوا کیا ہے۔

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ تھانہ صدر یزمان میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود نہ تو بچی بازیاب ہوئی اور نہ ہی ملزموں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی آفیسر نے ایک نامزد ملزم صلابت کو گرفتار کرکے ایک روز بعد چھوڑ دیا۔

لیکھو رام کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے اغوا کے واقعات نے ہندو برادری کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، ان کی بیٹی کشمالہ دیوی کی سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمر 13سال ہے اور نابابغ ہے۔

x

Check Also

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرنے والے کراچی پولیس کے ...

%d bloggers like this: