کراچی: ڈی این اے سے بچیوں کے ریپ میں ملوث ہونے کی تصدیق

کراچی پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت کو بتایا ہے کہ کراچی میں 4 بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کے شواہد گرفتار ملزم کے ڈی این اے نمونے سے میچ کر گئے۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشتبہ شخص کو کراچی کے سخن پولیس تھانے کی حدود سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے لیے ایک بچی کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 10 کے جج نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل غلام عباس دلوانی نے عدالت کو بتایا کہ 2 تفتیشی افسران کی جانب سے 5 ایک جیسے کیسز میں علیحدہ علیحدہ رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں جو کم عمر لڑکیوں اور بچیوں سے کے ریپ سے متعلق ہیں۔

ڈی ایس پی علی حسن شیخ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک بچی کو ریب کا نشانہ بنانے کے لیے اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تاہم بچی کو ملزم نے ریپ کا نشانہ نہیں بنایا لیکن پولیس نے ملزم کے ڈی ایم اے کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جو کراچی میں 2015 سے زیر تفتیش 4 ریپ کیسز سے میچ کر گئے۔

پراسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل شواہد کی بنیاد پر ملزم کو سیمپل میچ ہونے والے کیسز میں نامزد بھی کردیا گیا ہے۔

عدالت میں دلائل کے طور پر پراسیکیورٹر نے ڈی ایس پی خالد کی رپورٹ بھی پیش کی جو کراچی میں 2 بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں تفتیشی افسر نے تجویز پیش کی کہ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔

تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد بغیر کوئی فیصلہ جاری کیے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی جبکہ اس موقع پر وکیل صفائی کو پیش ہونے کا حکم دیا۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: