حکومت کی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) سے مدد کی درخواست

حکومت نے صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے مدد کرنے کی درخواست کردی۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 3 اراکین اسمبلی نے جنوبی صوبہ پنجاب سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا جسے قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بل پر مشاورت کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کا اختیار ایوان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو دے دیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے آئین کے آٹیکل 1، 51، 59، 106، 198 اور 218 میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے ایوان میں 2 تہائی اکثریت ہونی ضروری ہے اور حکومت کے پاس 2 تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے بل پر مشاورت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رائے طلب کی تو انہوں نے مثبت جواب دیا جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور اس موضوع کو آگے بڑھانے کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کے حوالے سے ایوان میں جو جماعتیں اتفاق کرتی ہیں انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کے پاس 2 تہائی اکثریت نہیں ہے۔ اس وقت ایوام میں سب اچھا سمجھتے ہیں اور اچھی پیشرفت قرار دیا ہے تو ہم چاہتے ہیں جب اس نیکی میں شامل ہوجائیں اور اس کا سہرا تمام جماعتوں کو جائے۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنماؤں سے درخواست کی کہ ’آپ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں اور جنوبی پنجاب کو بننے دیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی 3 اضلاع پر مشتمل ایک اور صوبے کا قیام چاہتے ہیں جو تکنیکی طور پر درست نہیں ہے، تاہم میری درخواست ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اپنے وعدے پر پیش رفت کی۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: