این ایف سی اور تنازعات

قومی مالیاتی ایوارڈ یا این ایف سی ایوارڈ کا تنازع ایک مرتبہ پھر پیدا ہوگیا۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبے این ایف سی ایوارڈ میں فنڈز کی تقسیم تبدیل کرنے کا طریقہ نکالیں۔

آئین کے آرٹیکل160 ایک کے مطابق ہر پانچ سال میں قومی مالیاتی ایوارڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔

2010ء تک قومی مالیاتی ایوارڈ چاروں صوبوں میں آبادی کی بنیا د پر تقسیم کیا جا تا رہا لیکن بعد میں اس کی تقسیم کے طر یقہ کو تبدیل کر دیا گیا۔

2010کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کو چار درجوں میں بانٹ دیا گیا۔ قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کچھ اس طرح طے کی گئی، 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر، 10.3 فیصد غربت، 5 فیصد ٹیکس جمع کر نے پر اور 2.7فیصد آ بادی کے دباؤ کی بنیا د پر تشکیل دیا گیا۔
سابق حکومت نے فر وری 2016 ء میں 9واں قومی مالیاتی ایوارڈ تشکیل دیا تھا لیکن عدم اتفاق کے باعث یہ ایوارڈ تاخیر کا شکار ہو گیا، اس میں وفاق صوبوں کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہا تھا۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ 9واں قومی مالیاتی ایوارڈ نئی مردم شماری کی بنیا د پر دیا جائے گا جس کے لیے لازمی ہے کہ مردم شماری کے نتائج کو حتمی شکل دی جاسکے۔ بصورت دیگر حسب سابق پرانے اعدادوشمار پر قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان کر دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بڑے صوبے کو ہی اس کا فائدہ پہنچے گا۔

قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کے تنازعے میں ہمیشہ چھوٹے صوبے مرکز اور پنجاب کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

قومی مالیاتی ایوارڈ کی تاریخ بھی دل چسپی سے خالی نہیں، مرکز سمیت چاروں صوبے اس ایوارڈ کی تقسیم کے فارمولے کے حوالے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔

پہلا قومی مالیاتی ایوارڈ 1951ء میں آیا جس کو ریمن ایوارڈ کا نام دیا گیا، اس کے تحت سیلز ٹیکس صوبائی معاملہ تھا، مرکز اور صوبوں کے ریونیو ذرائع کے تنازعے کو نمٹانے کے لئے 50 فیصد آمدنی ٹیکس کی سفارش کی گئی تھی۔
دوسرا قومی مالیاتی ایوارڈ دس سال کے وقفے کے بعد آیا۔ 1961ء میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے 1962 میں اپنی سفارشات پیش کیں،جس کے تحت ٹیکسز کی آمدنی میں سے مشرقی پاکستان کو 54فیصد اور مغربی پاکستان کو 46فیصد حصہ دیا گیا۔
1964ء کے مالیاتی کمیشن کا آغاز آئین کے آرٹیکل 144کے تحت ہوا، تمام صوبوں میں سیلز ٹیکس کا 30فیصد تقسیم کیا گیا۔
چوتھا قومی مالیاتی ایوارڈ1970 میں آیا۔ 1970ء میں ایک نیا کمیشن قائم کیا گیا جس نے 1971ء میں بنگلہ دیش کی علیحدگی سے پہلے اپنا ایوارڈ دیا۔ اس ایوارڈ میں صوبوں کو بنیادی اہمیت دی گئی اور ان کے تقسیم شدہ پول میں شراکت کے 65فیصد تناسب کو بڑھا کر 80فیصد کر دیا گیا۔

1973ء کے آئین کے بعد:

پہلا قومی مالیاتی ایوارڈ(1974)

اس ایوارڈ میں تقسیم شدہ پول کی گنجائش آمدن ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیوٹی تک محدود رہی ۔

دوسرا قومی مالیاتی ایوارڈ(1979ء)

جنرل ضیاء الحق نے وزیر خزانہ غلا م اسحاق خان کی سربراہی میں دوسرا این ایف سی ایوارڈ قائم کیا۔ بدقسمتی سے اس میں کوئی مشاورت نہ ہو سکی اور نہ تجاویز پیش کی جاسکیں۔ عبوری مدت میں وسائل کی تقسیم کے لئے 1974ء کے قومی مالیاتی ایوارڈ کو ہی معیار بنایا گیا۔

تیسرا قومی مالیاتی ایوارڈ(1985ء)

تیسرے قومی مالیاتی ایوارڈ کے کمیشن میں وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے صوبوں کو زیادہ ٹیکس دینے کا مشورہ دیا اور مرکز کے لئے صر ف آمدن ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کو ہی برقرار رکھا۔

چوتھا قومی مالیاتی ایوارڈ (1990ء)

تقریباََ سولہ سال کے وقفے کے بعد نواز شریف حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے لئے کمیشن قائم کیا۔جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز کے پاس تھی۔اس ایوارڈ نے 1974ء کے ایوارڈ کی نسبت صوبائی حصے میں 18فیصد اضافہ کیا ۔

پانچواں قومی مالیاتی ایوارڈ (1996ء)

اس مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کو خام تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی کا حقدار ٹھہرایا۔

چھٹا قومی مالیاتی ایوارڈ(2000ء)

شوکت عزیز کی صدارت میں قائم ہونے والے قومی مالیاتی کمیشن نے گیارہ مشاورتی اجلاس منعقد کئے لیکن اتفاق رائے نہ ہو سکا۔2005-06ء میں قومی مالیاتی ایوارڈ کے لئے اتفاق رائے قائم کرنے کی دوسری کوشش کی گئی لیکن ایک مرتبہ پھر مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا۔جس کے بعد صدر پرویز مشرف نے آئین کے آرٹیکل 6۔160اور آرڈیننس نمبر ایک (2006)کے تحت ترمیم کر کے وسائل کی تقسیم کا فارمولہ جاری کیا۔

ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ (2009ء)

13سال کے وقفے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ پر تاریخی اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا اور صوبوں کی طرف سے قومی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے کسی قسم کا اعتراض سامنے نہ آیا۔

قومی وسائل کی تقسیم کے لیے ایک مرتبہ پھر اتفاق رائے قائم نہ کیا جاسکا اور سابق حکومت آٹھویں قومی مالیاتی ایوارڈ کو پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے بعد نویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے لیے بھی فروری2016ء میں کمیشن قائم کیا گیا لیکن عدم اتفاق رائے کے باعث یہ ایوارڈ جاری نہ کیا جاسکا۔
اگرچہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم میں پائے جانے والے تاریخی اختلافات ختم ہوچکے ہیں لیکن فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد کے پی کے اپنے روایتی حصے سے زیادہ کا طلب گار ہے اور دوسری طرف سندھ اور بلوچستان کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ جب تک ملک میں ٹیکس آمدن نہیں بڑھتی وفاق اور صوبوں کا حصہ نہیں بڑھ سکتا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا دعوی ہے کہ این ایف سی سے سندھ کو 104 ارب روپے کم دئیے گئے ہیں۔
اگر قومی مالیاتی ایوارڈ میں بھی اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا تو مجبوراً2009ء کے قومی مالیاتی ایوارڈ کے تناسب پر انحصار کرنا پڑے گا لیکن اس کے لیے 2018ء کی مردم شماری اور فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کا معاملہ کس طرح حل کیا جائے گا، اس کے بارے میں حکومت کے پاس ابھی تک کوئی فارمولہ نہیں۔

x

Check Also

پاکستان کا جوہری ہتھیار لے جانے والے غزنوی کا کامیاب تجربہ

پاکستان کا جوہری ہتھیار لے جانے والے غزنوی کا کامیاب تجربہ

پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے شارٹ رینج بیلسٹک میزائل غزنوی (حتف ...

%d bloggers like this: