برطانیہ میں پہلی بار وزیر داخلہ کے عہدے پر مسلمان تعینات

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے ساجد جاوید کو برطانیہ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کردیا۔ اس سے قبل امبر روڈ اس عہدے پر تعینات تھیں، جنہوں نے گزشتہ روز متنازعہ پناہ گرین پالیسیوں پر شدید تنقید پر استعفیٰ دیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ انہوں نے کمیونٹیز کے وزیر ساجد جاوید کو وزیر داخلہ مقرر کردیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طاقتور ملک برطانیہ میں طاقتور اور ہائی پروفائل عہدے پر پہلی بار کسی مسلمان کو وزیر داخلہ تعینات کیا گیا ہے۔

مستعفیٰ وزیر داخلہ امبر روڈ سے متعلق برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امبر روڈ نے معزز ایوان کے اراکین سے غلط بیانی سے کام لیا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق تعینات ہونے والے نئے وزیر داخلہ ساجد جاوید کا ایوان کے اراکین اور عوام میں اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ اس سے قبل 8 جنوری 2018 سے 29 اپریل 2018 تک کمیوٹیز اور مقامی حکومت کے وزیر مملکت رہے۔

وہ سیکریٹری آف اسٹیٹ فار بزنس کے عہدے پر بھی فائز رہے، جب کہ اسٹیٹ فار کلچر، میڈیا اور اسپورٹس کے عہدے بھی اپریل 2014 سئ مئی 2015 تک ان کے پاس تھے۔

ساجد جاوید سال 2010 میں برومزگروؤ سے پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ ساجد جاوید کو ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں کنزرویٹیو کے پہلے مسلمان وزیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں انھیں وزیر ثقافت کا قلمدان دیا گیا تھا، جب کہ دو سال مئی میں انھیں ترقی دے کر وزیر برائے کاروباری امور بنا دیا گیا تھا۔

ساجد جاوید یورپی یونین کے مخالف رہے ہیں، لیکن یورپی ریفرینڈم میں انھوں نے ڈیوڈ کیمرون کی حمایت کرتے ہوئے ریمین مہم کا ساتھ دیا تھا۔ پاکستانی نژاد سیاست دان ساجد جاوید بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں، وہ سیاست میں آنے سے قبل انوسٹر بینکر تھے۔

ساجد جاوید 2010 میں کنزرویٹیو کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئے، انھیں دو سال بعد وزارت خزانہ کا سیکریٹری بنا دیا گیا جبکہ سیاسی حلقوں میں انھیں کنزرویٹیو پارٹی کے مستقبل کے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ساجد جاوید کو 2014میں ایشیا سے تعلق رکھنے والا برطانیہ کا سب سے بااثر شہری قرار دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: