بختاور بھٹو نے عابدہ حسین کو قانونی نوٹس کیوں دیا؟

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اور معروف سیاست دان سیدہ عابدہ حسین کو ان کی کتاب پر قانونی نوٹس بھجوا یا ہے جس کے بعد کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہونے والی اس کتاب کی رونمائی ملتوی کر دی گئی ہے۔ عابدہ حسین کو بھجوانے جانے والے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اِس جھوٹے دعوے سے شروع کی گئی ہے کہ اس کی مصنفہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی دوست تھیں جو کہ قطعی غلط اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
بختاور بھٹو کی جانب سے یہ قانونی نوٹس ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سیدہ عابدہ حسین کے ساتھ ساتھ معروف پبلشنگ ادارے ’’آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ‘‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید، ریجنل سیلز ڈائریکٹر سلمیٰ عادل اور کراچی لیٹریری فیسٹیول کے بانی اور ڈائریکٹرز کو بھی بھیجے گئے ہیں جس کے بعد کراچی میں ہونے والے ادبی میلے میں اس کتاب کی رونمائی روک دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دس سال بعد لکھی جانے والی اس کتاب میں محترمہ کے حوالے سے بعض ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جن کا پیپلزسیکرٹریٹ کے مطابق حقائق سے دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں اور سیدہ عابدہ حسین نے یہ کتاب لکھنے کا انتخاب ایسے وقت کیا جب بے نظیر بھٹو اس دُنیا میں موجود نہیں ہیں اور وہ ان کے جھوٹے دعووں کا جواب نہیں دے سکتیں۔ سیدہ عابدہ حسین کا بے نظیر بھٹو سے دوستی کا دعویٰ محض سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور ان کی کتاب بیمار ذہنیت اور ایک مردہ روح کی پیداوار ہے۔ یہ کتاب بغیر کسی تحقیق کے لکھی گئی ہے اور یہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ، ان کے خاندان اور سیاسی میراث کے خلاف ہے۔ کتاب لکھتے وقت کسی قسم کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی حقائق جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔
پیپلز سیکرٹریٹ کے مطابق عابدہ حسین اور دیگر کو یہ نوٹسز اس کتاب میں جھوٹے، غیرمصدقہ اور ذاتی عناد کی بنیاد پر لگائے گئے الزامات پر بھیجے گئے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان سب لوگوں نے غیرذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی کتاب لکھی اور شائع کی ہے جس میں یہ کوشش کی گئی کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو، ان کی پارٹی اور سیاست پر کیچڑ اچھالا جائے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کتاب کے پرنٹر اور پبلشرنے بھی اس بات کا قطعی خیال نہیں رکھا کہ وہ اسے مارکیٹ میں لانے سے پہلے کتاب میں دئیے گئے مواد کی تحقیق کر لیتے۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کتاب کی پبلشر اور پرنٹر کراچی لیٹریری فیسٹیول کی ڈائریکٹر ہیں اوراس کتاب کی رونمائی 9 فروری 2018ء کو شروع ہونے والےکراچی لیٹریری فیسٹیول میں کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں خاص طور پر متنبہ کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کی رونمائی سےبازرہیں، اگر کراچی لیٹریری فیسٹیول اس کتاب کی فروخت کرتا ہے تو وہ بھی اس کتاب کی مصنفہ اور پبلشر کے ساتھ گٹھ جوڑ کا مرتکب سمجھے جائیں گے جو کہ قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بختاور بھٹو کے قانونی نوٹس کے بعد نہ صرف کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سیدہ عابدہ حسین کی کتاب کی رونمائی ملتوی کر دی ہے بلکہ اپنی ویب سائٹ سے مذکورہ کتاب کے حوالے سے موجود تشہیری مواد بھی ہٹا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: