کامران ٹیسوری ،ایم کیو ایم میں تقسیم کی وجہ ؟؟

 

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینرکامران ٹیسوری پارٹی میں تقسیم کی وجہ بتائے جارہے ہیں،وہ 3فروری 2017ء کو ایم کیو ایم میں شامل ہوئے اور پارٹی ٹکٹ پر حلقہ 114کے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا۔

کامران ٹیسوری جو ضمنی انتخابات میں پیپلز پارتی کے سعید غنی کے سامنے ٹک نہ سکے ،ضمنی انتخابات میں شکست کے بعدسے کامران ٹیسوری پر الزام ہے کہ وہ ایم کیو ایم میں مختلف اوقات میں دراڑیں ڈالنے میں سرگرم رہے اور بالاآخر وہ اپنے سیاسی کیریئر میں تیسری جماعت میں بھی پھوٹ کا سبب قرار پائے۔

کامران ٹیسوری نے پارٹی میں ناراضگیوں کی وجہ سے 7 دسمبر 2017ء کو ایم کیوایم چھوڑنے کا اعلان کیا ، لیکن فاروق ستار اور ان کی والدہ کے منانے پر پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ واپس لے لیا۔

اس سے قبل 2013ء سے کامران ٹیسوری پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کا حصہ تھے ،جہاں ان کے آتے ہی پھوٹ پڑنا شروع ہوگئی، اس وقت فنکشنل لیگ کے جنرل سیکریٹری امتیاز شیخ سے ان کی خوب ٹسل رہی ،نتیجہ یہ نکلا کہ امیتاز شیخ کو فنکشنل لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جانا پڑگیا۔

ذرائع کے مطابق 2004ء میں کامران ٹیسوری نے سابق وزیر اعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم سے بھی سیاسی تعلق جوڑا، جو اس وقت پی ایم ایل ق کے رہنما تھے ، کامران ٹیسوری نے ارباب غلام رحیم کی امتیاز شیخ سے دوستی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور چوکنڈی قبرستان کی زمین الاٹ کرانے میں بھی لگے رہے، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

اس دوران وہ ارباب غلام رحیم اور امتیاز شیخ کے درمیان پھوٹ ڈالنے میں بازی لے گئے ،نتیجہ یہ رہا کہ امیتاز شیخ کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا،2008ء میں ارباب غلام رحیم پر برا وقت آیا تو کامران ٹیسوری ان کا ساتھ چھوڑ کر فنکشنل لیگ میں آگئے۔

سیاسی پارٹیوں میں پھوٹ کی وجہ بننے والے کامران ٹیسوری نے سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیوایم میں بھی پھوٹ ڈال دی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: