نوازشریف کی جلاوطنی ، برطانوی جریدے کی رپورٹ

نوازشریف کی جلا وطنی اورسعودی عرب سے ڈیل کی دی ٹائمز کی رپورٹ بے بنیاد ہے اور قیاس آرائی پر مبنی ہے۔نوازشریف کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ رپورٹ میں خواہشات کو حقائق بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے،دوسری طرف اس رپورٹ پر دی ٹائمز کو شکایات بھی ملی ہیں، تفصیلات کے مطابق دی ٹائمز میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نوازشریف سے متعلق رپورٹ میں کہاگیا کہ وہ کرپشن ٹرائل سے بچنے کیلئے سعودی عرب سے ڈیل کرکے جلا وطنی میں رہیں گے،شریف خاندان کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہرپورٹ جھوٹ اور حسرت بھری سوچ پر مبنی ہے ۔ہفتے کو لندن سے دی ٹائمز میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں سنسنی خیز رپورٹ شائع ہوئی کہ نوازشریف عدالتی کارروائی کا سامنا کیے بغیر خاموشی سے سیاست کیلئے تیار ہیںلیکن ایسی رپورٹ غلط اور سازشی نظریے پر مبنی ہے ۔نوازشریف کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ دی ٹائمز نے کسی کی خواہش کو حقائق اور خصوصی بناکر شائع کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ رپورٹ بے بنیاد اور کسی ایک کے خیالات ہیں۔دی ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان چھوڑنے کیلئے اجازت درکار ہے وہ کسی چیکنگ کے بغیر ہی نااہلی کے بعد پاکستان سے بھی سفر کررہے ہیںاور ان کے سفر میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے اور نہ ہی ان کا نام ای سی ایل میں ہے ،وہ با قا عدگی سے نیب میں پیش ہورہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نوازشریف کا پاکستانی ملٹری سے اختلاف ہے اور کہا گیا کہ سعودی عرب ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حکمران سیاسی خاندان کے مابین آنے کیلئے تیار ہے ۔پاکستان ملٹری کے ذرائع واضح کرچکے ہیں کہ ان کی سیاست میں مداخلت نہیں ہے اور نوازشریف کی نااہلی سپریم کورٹ کی جانب سے تھی ،نوازشریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن)نے انفرادی حیثیت سے کسی طرف اشارہ کیاکہ نوازشریف کیخلاف مہم میں کس کا کردار ہے لیکن سابق وزیر اعظم نے کسی بھی موقع پر فوج پر الزام نہیں لگایا ۔دی ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے لاہور میں نوازشریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہوں نے حکومت اور فوج کے مابین مصالحتی کردار ادا کیا ۔اتوار کو یہ خبر آئی کہ نوازشریف کی ناصر جنجوعہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور یہ مفروضہ رپورٹ تھی ۔دی ٹائمز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی پاکستانی فوج کے حتمی اشارہ ملنے کے انتظار میں ہیں لیکن ایک ذرائع نے کہا کہ خواہشات کو حقائق بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔یہ بات دیکھنے میں ضرور آئی ہے کہ اس رپورٹ کے بعد دی ٹائمز کو شکایتیں ملی ہیں،اور دی ٹائمز کے ترجمان کے مطابق ’’انٹرنیشنل اور پاکستان سے متعلق رپورٹس کے ایڈیٹر چھٹی پر تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: