خواتین پر تشدد، زیادتی کے واقعات میں17فیصدتک اضافہ

پنجاب میں 4 سال کےدوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں 12 فیصد اور زیادتی کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے،متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ تشدد میں اضافے کی وجہ مرد حضرات ہیں ۔
پنجاب کمیشن فار ویمن رائٹس کےمطابق 2016ء میں خواتین پر تشدد کے 7ہزار313 اور زیادتی کے 3ہزار 162کیس رپورٹ ہوئے۔
اس طرح تشدد کے واقعات میں 12اعشاریہ4 اور زیادتی کیسزمیں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
2017 کی پہلی ششماہی میں تشدد کے 1 ہزار274واقعات اور زیادتی کے 1 ہزار 365 واقعات سامنے آئے۔
اس حوالےسےخواتین کا کہنا ہے کہ مرد لوگ کانوں کے کچے ہوتے ہیں ،دوسروں کی باتوں میں آکر خواتین کو مارتے پیٹتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے تشدد سے متاثرہ خواتین کیلئے دارالفلاح کے نام سے عارضی رہائش گاہ قائم کی ہے ،جہاں خواتین کو ان کے حقوق، قوانین اور دیگر معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ تشدد کےواقعات کی روک تھام کے لیے مردوں کو گھروں پر تربیت دی جائے اور جولوگ ظلم کرتے ہیں انہیں سخت سزا دینے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: