FILE PHOTO: Bitcoin cryptocurrency representation is pictured on a keyboard in front of binary code in this illustration taken September 24, 2021.

بٹ کوائن 40ہزار ڈالر پر واپس، سیکیورٹی خدشات برقرار

عالمی کرپٹو مارکیٹ مندی کا شکار ہے۔ بٹ کوائن کی 38ہزار ڈالر کی سطح پر گرنے کے بعد دوبارہ 40ہزار ڈالر پر آئی۔ کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی مالیت ایک ہزار 870ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے جو گزشتہ روز کی نسبت 0.62فیصد کم ہے۔

بٹ کوائن 38ہزار 545ڈالر سے 41ہزار 100ڈالر کے دوران ٹریڈ کر رہا ہے۔ آلٹ کوائنز میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ بلش مارکیٹ میں سب سے زیادہ اضافہ جی ایم ٹی میں ریکارڈ کیا گیا جس کی مالیت 18فیصد بڑھ گئی۔ ایم ٹی ایل اور ٹورن کی قیمتوں میں 12فیصد اضافہ ہوا۔

مارکیٹ کا رجحان دیکھا جائے تو مہینے کے آخری پندرہ دنوں میں خریداری کرنے والے مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان اس سال متواتر دیکھا جا رہا ہے۔ کوائن ڈیسک کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق اسٹاکس اور کرپٹوز اپریل اور مئی میں مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے قلیل مدتی سرمایہ کاری ان شعبوں میں آ رہی ہے۔

اس کے باوجود جیوپولیٹکل اور ریگولیٹری مسائل موجود ہیں۔ مثال کے طور پر روس اور یوکرین کی جنگ میں چند ہفتوں کے دوران شدت آئی ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ سرمایہ کار محتاط ہیں۔

کرپٹو مارکیٹ سے منی لانڈرنگ کے نئے شواہد اور ہیکنگ کے حملوں کے بعد دنیا بھر میں پالیسی میکرز پریشانی میں مبتلا ہیں۔

پیر کو چند آلٹ کوائنز نے بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ٹے را کے لونا ٹوکن اور مونیرو کے ایکس ایم آر کی قیمت میں چوبیس گھنٹوں کے دوران آٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس عرصے میں بٹ کوائن کی قیمت صرف دو فیصد بڑھی۔

عالمی مارکیٹ میں سونے اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاکس میں تنزلی ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں اور ابھی کوئی بھی رسک لینے کو تیار نہیں۔

چوبیس گھنٹے کے دوران بٹ کوائن کی خریداری اور فروخت کا حجم تقریباً برابر رہا ہے۔ بٹ کوائن کو ریکوری فیز میں رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اوسط سے زیادہ خریدار مارکیٹ میں موجود رہیں۔

فیرلینڈ اسٹریٹیجز کے ایم ڈی کیٹی اسٹاکٹن کے مطابق بٹ کوائن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تو 48ہزار ڈالر کی سطح پر مارکیٹ کے کریش کرنے کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر مارکیٹ کریش ہوئی تو بٹ کوائن کی قیمت 27ہزار200ڈالر تک گرسکتی ہے۔

کرپٹو کی سیکیورٹی کے خدشات

چودہ اپریل کو ایف بی آئی نے رونین برج سے 620ملین ڈالر کی ہیکنگ کا ذمہ دار شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ لازرس کو قرار دیا۔

ایف بی آر نے اپنی پریس ریلیز میں لکھا کہ شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے سائبرکرائمز اور کرپٹو کرنسی کی چوری سے رقوم کے حصول کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

بلاک چین ریسرچ فرم ٹی آر ایم کے قانونی امور کے سربراہ ایری ریڈبورڈ کا کہنا ہے کہ اس ہیکنگ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات اب چھوٹی ہیکنگز سے بڑھ کر قومی سلامتی کے خدشات تک جا پہنچے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک ایتھریم ایڈریس کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ والٹ پروفائلر نینسن کو رونن برج ایکسپلائٹرز قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت تک والٹ میں ایک لاکھ 48ہزار ایتھریم موجود ہیں۔

آلٹ کوائنز راؤنڈ اپ

شیب اور ڈوگی کوائن کی قیمتوں میں چوبیس گھنٹوں کے دوران چار فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈوگی کوائن کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کی خریداری کے اعلان پر سٹے باز ڈوگی کوائن کی مارکیٹ میں سرگرم ہو گئے تھے۔

امریکی ڈالر کے حساب سے شیب دنیا کے 100بڑے ایتھریم والٹس میں موجود سب سے بڑا ٹوکن بن گیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے کرپٹو ایکسچینج ایف ٹی ایکس کا ٹوکن ایف ٹی ٹی ایتھریم کے بعد ایتھریم ویلز کے خزانے میں موجود سب سے بڑا ٹوکن تھا۔ تاہم اب یہ جگہ شیب نے لے لی ہیں۔ سو بڑے ایتھریم والٹس میں موجود شیب کی مالیت کا اندازہ ایک کروڑ 31لاکھ ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔ ایف ٹی ایکس ٹوکن کی مالیت ایک کروڑ 15لاکھ ڈالر سے زائد ہے۔

x

Check Also

گالیاں دینے والوں پر قومی اسمبلی کے دروازے بند

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے بجٹ سےمتعلق اجلاس کے دوران پیش آنے والے ...

%d bloggers like this: