پلوامہ حملے کے بعد ہمیں بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا، عمران خان

پلوامہ حملے کے بعد ہمیں بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے پلوامہ حملے کے بعد ہمیں بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا کیونکہ ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹ تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے جو کوئی اقدام کیے وہ انتہائی میچور تھے۔

اسلام آباد میں بھارتی جارحیت کا موثر جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ہماری فورس نے ہر محاذ پر انتہائی محدود اور ذمہ دارانہ ردعمل کا اظہار کیا’۔

واضح رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے میڈیا نے انتہائی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور افراتفری میں جواب دینے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا’۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘بھارتی جارحیت کے بعد متعدد مرتبہ منہ توڑ جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، بھارتی پائلٹ نئی دہلی کے حوالے کیا، بھارتی آبدوز کو لاک ڈاؤن کرلیا لیکن کوئی جارحانہ اقدام نہیں اٹھایا’۔

علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو نسل پرستانہ اور فاشسٹ نظریہ اپنایا ہے ادھر سے واپسی انتہائی مشکل ہے، شہریت ترمیمی قانون کے انتہا پسند ہندوؤں آر ایس ایس کا نظریہ اپنایا اور اب بھارت میں فسادات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کا منطقی انجام ہے خونریزی ہے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہ ‘انتہاپسندی اور قومیت پسندی کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھارتی اقلیتوں پر ظلم اٹھا رہی ہے اور اگر بی جے پی نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تو یہ ہی انتہا پسندی اور قومیت پسندی انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دے گی’۔

علاوہ ازیں عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ گیا اس لیے یہ وقت ہے کہ دنیا بھارتی اقدامات کا نوٹس لے۔

تقریب میں وفاقی وزرا، اعلیٰ سول و عسکری حکام سمیت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ائر چیف مجاہد انور خان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن کا خواہاں ہے لیکن گزشتہ برس 27 فروری کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کا موثر جواب دیا۔

واضح رہے کہ 27 فروری 2019 کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کا موثر جواب دیتے ہوئے بھارت کے دو جنگی طیارے پاکستانی حدود میں مار گرائے تھے اور ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کیا گیا۔

تقریب کے ابتدائیہ خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا پہلا پیغام تھا کہ بھارت کسی بھی جارحیت کے بارے میں نہ سوچے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس کرنے کے وزیراعظم کے اقدام کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کو گرانے کے بعد گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا اور وہ واپس اپنے ملک پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دو ایٹمی قوتیں مسئلہ کشمیر کے عسکری حل کے بارے میں سوچ سکتی ہیں اگر ایسا ہے تو یہ محض خودکشی ہوگی۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق کہا کہ مقبوضہ کمشیر میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدات غیر قانونی ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ وادی پر 2 رپورٹس جاری کیں اور یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کی گئی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔

علاوہ ازیں شایہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے پر قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت نے بابری مسجد کو شہید کیا اور پاکستان نے کرتارپور راہداری تعمیر کی اور متنازع شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے نئی دہلی گزشتہ 48 گھنٹے سے فسادات کی زد میں ہے’۔

واضح رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور بھارت کی جانب سے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

26 فروری کو بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ کو تباہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بناتے ہوئے اور بروقت ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس میں بھارتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ مناسب وقت اور جگہ پر بھارتی مہم جوئی کا جواب دیا جائے گا۔

اس اہم اجلاس کے فوری بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی، جس میں بھی شاہ محمود قریشی نے بھارتی عمل کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس کا جواب دے گا۔

بعد ازاں پاک فوج کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اب وہ پاکستان کے جواب کا انتظار کرے جو انہیں حیران کردے گا، ہمارا ردِ عمل بہت مختلف ہوگا، اس کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے طیارے 21 منٹ تک ایل او سی کی دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی کرتے رہے جو جھوٹے دعوے ہیں۔

جس کے بعد 27 فروری کو پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا، جس میں سے ایک کا ملبہ آزاد کشمیر جبکہ دوسرے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا تھا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر کو بھی گرفتار کیا گیا۔

واقعے کے بعد وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا پاکستان اسے جواب دینے کا حق رکھتا ہے، کل بھی کہا تھا کہ پاکستان جواب ضرور دے گا۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: