شہدا کی فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ

احتساب عدالت نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی (ایف ایچ ایس کے) میں دھوکا دہی کی تحقیقات کی بنیاد پر زیر حراست 2 بلڈروں کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کردی۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح ‘زمین شہدا اور جنگی ہیروز’ کے نام پر حاصل کی گئی لیکن شاید ہی کوئی یونٹ شہدا کو الاٹ کیا گیا ہو۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ کس طرح پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے کچھ افسران نے ہاؤسنگ یونٹوں کی خریداری کے لیے اپنے ہی ساتھیوں کو راغب کیا اور اس مد میں کروڑ روپے کمائے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے میکسم پراپرٹیز سے وابستہ تنویر احمد اور بلال تنویر کو گرفتار کیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی میں سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کو مبینہ طور پر 18 ارب روپے سے محروم کردیا۔

اس ضمن میں تفتیشی افسراسلم پرویز ابڑو نے دونوں ملزمان کو احتساب عدالتوں کے انتظامی جج فاروق انور قاضی کے سامنے پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کے جسمانی تحویل میں توسیع مانگی۔

آئی او نے پیشرفت رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران مزید شواہد ریکارڈ پر آئے ہیں کہ دونوں ملزمان پاک فضائیہ کے افسران کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکا دینے میں ملوث تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے ملزمان نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے آؤٹ پلان کی منظوری لی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کوئی این او سی حاصل کیے بغیر ہی متعلقہ سرکاری قوانین کی دھجیاں اڑائیں اور ہاؤسنگ اسکیم کے اشتہارات، خرید و فروخت اور بکنگ شروع کردی’۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مشتبہ افراد نے 19 جون 2015 کو ایک مراسلے کے ذریعے منصوبے کے لیے ایم ڈی اے سے اراضی/ ایڈجسٹمنٹ / تبادلہ حاصل کیا، جسے بعد میں ایم ڈی اے نے 5 جولائی 2015 کو منسوخ کردیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انہوں نے منصوبے کی اراضی پر چاردیواری کھڑی کرکے سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کیا اور تعمیراتی کام شروع کردیا۔

آئی او نے بتایا کہ ملزمان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظوری لی اور نہ ہی این او سی حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان نے منصوبے کو سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کی دفعات سے بھی خارج نہیں کرایا۔

انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے سے بتایا کہ ایس بی سی او نے متعدد بار ایف ایچ ایس کے کی انتظامیہ کو منصوبے سے متعلق منظوری / این او سی حاصل کرنے کی درخواست کی۔

بعدازاں ایس بی سی اے نے 8 جنوری 2020 کو غیر مجاز تعمیرات اور فروخت کی سرگرمیوں کی اطلاعات پر ایف ایچ ایس کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا وزیر اعلی سندھ ہاؤس سے جمع شدہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پی اے ایف کے عہدیداروں نے ہاوسنگ سوسائٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 1979 کی تمام کارروائیوں کو خارج کرنے کے لیے وزیر اعلی سندھ سے درخواست کی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری نے 10 جنوری 2017 کو جواب دیا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک سمری کے تحت صرف شہدا کے ورثا کو رہائش الاٹ کرنے کے لیے مراعات کی اجازت دی تھی’۔

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ پاک فضائیہ نے جنگی ہیروز اور شہدا کے اہل خانہ کی بحالی کے نام پر یہ منصوبہ شروع کیا لیکن ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 8 ہزار 400 ہاؤسنگ یونٹوں میں سے صرف 30 یونٹوں کو شہدا کے اہل خانہ کے لیے الاٹ کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حراست میں لیے گئے بلڈروں نے پی اے ایف کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے فارم فیس، رجسٹریشن، اوپن سرٹیفکیٹ، معیاری اور عیش و آرام کے اپارٹمنٹ، سرچارج، ٹرانسفر فیس کی مد میں 18 ارب 20 کروڑ روپے جمع کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں بلڈروں نے 5 ہزار 732 متاثرین سے رقم اکٹھی کی تاہم متاثرین میں پی اے ایف کے اہلکار شامل نہیں تھے جنہیں پی اے ایف حکام نے اپنے ہی محکمہ میں رہائشی یونٹوں کی خریداری کا لالچ دیا تھا۔

بعدازاں جج ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو ہفتوں کی توسیع دے دی۔

x

Check Also

حکومت پنجاب نواز شریف کی طبی رپورٹس سے غیر مطمئن

حکومت پنجاب نواز شریف کی طبی رپورٹس سے غیر مطمئن

لاہور: حکومت کے میڈیکل بورڈ نے بیمار سابق وزیراعظم نواز شریف کی ’تازہ‘ طبی رپورٹس ...

%d bloggers like this: