چین میں شادی، محتاط رہیں، چینی سفیر

پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ 2020 میں پاک – چین تعلقات و تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دفاع سمیت دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھے گا۔

اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے زیر اہتمام نئے سال کی آمد کے حوالے سے عشائیے کا انتظام کیا گیا۔

تقریب سے خطاب میں چینی سفیر یاؤ جنگ نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے کہا کہ 2020 میں پاک ۔ چین تعلقات و تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں رہے گا، یہ تعاون سی پیک سے بڑھ کر دفاع اور دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے خلاف پروپیگنڈے میں مغربی میڈیا کی جانب سے بہت کردار ادا کیا گیا، سی پیک پر بھی مغربی میڈیا نے بہت پروپیگنڈا کیا، ہمیں افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں بھی بہت سے چلینجز کا سامنا ہے تاہم پاکستان اور چین مل کر امن و استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین نے نومبر 2019 میں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے میں کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا، سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔

اسلام آباد میں پانچویں سی پیک میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جِنگ نے کہا کہ ‘امریکا کی معاون سیکریٹری اسٹیٹ ایلس ویلز نے سی پیک پر بات کی، سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا تب آسان ہے جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نیب اور حکومتی ایجنسیوں کو سی پیک منصوبوں میں کرپشن کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور مکمل شفافیت پائی گئی۔’

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی انچارج اور معاون سیکریٹری اسٹیٹ ایلس جی ویلز نے الزام لگایا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کو کرپشن سے متعلق تحقیقات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک سے صرف چین کو فائدہ ہوگا اور اگر بیجنگ یہ منصوبہ جاری رکھتا ہے تو کچھ فائدے کے بدلے پاکستان کو طویل مدت میں بڑا نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے وقت مل بھی جائے تو یہ قرضے اس کی اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رہیں گے جس سے وزیر اعظم عمران خان کے اصلاحات کے ایجنڈے کو نقصان پہنچے گا۔

یاؤ جنگ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اقدامات ناقابل قبول ہیں جبکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین کو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیوں پر تحفظات ہیں جبکہ ہم دونوں ممالک کے باہمی مسائل کا حل سفارتی طریقے سے تلاش کرنے کے حامی ہیں۔

پاکستانی خواتین کی چینی باشندوں سے شادیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا چینی میرج ایجنسیوں کو بین الاقوامی شادیاں کرانے کی اجازت نہیں ہے، ایسی غیر قانونی ایجنسیوں کے ہاتھوں ہونے والی شادیاں ہمارے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: