ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث اموات کی تعداد 70 ہوگئی

ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث اموات کی تعداد 70 ہوگئی

اسلام آباد نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث گزشتہ 3 دنوں میں مجموعی طور پر 70 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں کے باعث ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مالاکنڈ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈ اور برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم سمیت دیگر اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ چترال کا صوبے کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

ادھر این ڈی ایم کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ موسم کی خراب صورتحال کے باعث سب سے زیادہ 55 افراد آزاد کشمیر میں جاں بحق ہوئے جبکہ صوبہ بلوچستان میں بارشوں، برفباری کے باعث مختلف واقعات میں 15افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور برفباری کے باعث مختف حادثات میں 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 35مکانات کو نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔

آزاد کشمیر میں برفانی تودہ گر گیا

سب سے زیادہ افراد آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے کے سبب جاں بحق ہوئے اور اس حادثے کی وجہ سے 2 درجن مکانات، متعدد دکانوں اور ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔

واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوجی اہلکاروں اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف کے کام انجام دیے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں سورنگن میں برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکار تودے کے نیچے دبے دیگر افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ 4 زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا کہ برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لیے انتطامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے روانہ کر دیئے گے ہیں۔

بلوچستان میں شاہراہیں بند

ڈان اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ کے صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے کنٹرول روم میں مختلف حادثات میں 17 افراد کے جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہونے کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں۔

صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے پی ڈی ایم اے نے مستونگ، قلعہ سیف عبداللہ، کیچ، زیارت، ہرنائی اور ضلع پشین میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

خوجک ٹام پر شدید برفباری کی وجہ سے زیارت اور کوئٹہ کے مابین موصلاتی رابطے شدید متاثر ہوئے اور کوئٹہ چمن شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

موسم کی شدت کے سبب خیبرپختونخوا میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے میں میں سب سے زیادہ برفباری لواری اپروچ روڈ پر23انچ ریکارڈ کی گئی۔

ڈان اخبار کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں بچے سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہوئے۔

چترال میں شدید برفباری کے باعث زمینی راستہ منقطع

پاکستان کےصوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال اور مضافات میں پیر کی رات سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث چترال بھر میں تمام شاہراہیں بند ہیں جبکہ چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ لواری ٹنل بھی کل براڈام کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے بند ہوا۔

مقامی تھانے عشریت کےاسٹیشن ہاؤس آفیسر(یس ایچ او) نے ڈان کو بتایا کہ پیر کے روز چھوٹے ٹنل کے قریب براڈام کے مقام پر ایک بھاری بھرکم برفانی تودہ گرنے سے لیویز اور پولیس کے جوان بال بال محفوظ رہے تاہم گلیشئر گرنے کی وجہ سے پشاور-چترال شاہراہ ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہو گئی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور درجنوں گاڑیاں لواری ٹاپ میں پھنسی ہوئی ہیں۔

چترال پولیس کے مطابق بونی، مستوج، گرم چشمہ، وادی کیلاش، ملکہو، تورکہو کی سڑکیں برف باری کے باعث ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

چترال کے علاقے کیلاش سے تعلق رکھنے والہ ایک مقامی ڈرائیور نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لواری سرنگ روڈ کو ابھی تک صاف نہیں کیا اور محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے بھی سڑکوں کی صفائی پر ابھی کام شروع نہی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے میجر جنرل ملاکنڈ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لواری ٹاپ کو گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی برف سے صاف رکھیں۔

چترال کے گاوں گرم چشمہ سڑک کی بندش کی وجہ سے 40 ہزار افراد کی زندگیاں سخت متاثر ہیں اور ان لوگوں کا بازار تک آنا بھی مشکل ہے۔

علاوہ ازیں شدید برف باری کے باعث چترال بازار میں آگ جلانے کیلئے لکڑیوں کی بھی شدید قلت ہے اور لوگ زیادہ تر کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے جنگل کی لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے سینگور کے مقام پر گیس پلانٹ کا افتتاح کیا تھا جس کی تعمیر کے لیے 10 ایکڑ زمین بھی خریدی گئی مگر بعد میں اس پر کام روک دیا گیا۔

عشریت میں ایک مقامی سماجی کارکن امجد علی نے بتایا کہ یہاں ڈھائی فٹ جبکہ لواری ٹنل کے سامنے اور اسی پہاڑ پر سات فٹ تک برف باری ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ذرائع آمد ورفت معطل اور بازار میں تازہ سبزیوں، پھلوں، مرغی اور گوشت کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

x

Check Also

کیماڑی: پراسرار گیس سے 6 افراد جاں بحق، 100 متاثر

کیماڑی: پراسرار گیس سے 6 افراد جاں بحق، 100 متاثر

کراچی کے علاقے کیماڑی میں پراسرار گیس کے اخراج سے جاں بحق ہونے والوں کی ...

%d bloggers like this: