آرمی ایکٹ ترمیم، اجلاس 6 جنوری کو دوبارہ طلب

آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور

قومی اسمبلی نے سروسز ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے۔

آرمی، نیوی، فضائیہ کے ایکٹس میں ترامیم کی شق وار منظوری لی گئی۔

بل کی مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے حمایت کی جبکہ اس موقع پر جماعت اسلامی، جے یو آئی ف اور قبائلی اضلاع کے اراکین نے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس بل کی منظوری کے بعد کل شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

وزیرِ دفاع پرویز خٹک کی درخواست پر پیپلز پارٹی نے ترامیم سے متعلق اپنی سفارشات واپس لے لیں۔

نوید قمر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ملکی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ترامیم واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد وزیرِ دفاع نے سروسز ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔

ایوان نے رائے شماری کے بعد سروسز ایکٹ ترمیمی بل ایوان پیش کرنے کی تحریک منظور کی۔

اجلاس کے ایجنڈے میں سروسز ایکٹس کے تینوں ترمیمی بلز منظوری کے لیے شامل تھے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیرِ اعظم عمران کی صدارت میں، جبکہ مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس راجہ ظفر الحق کی زیرِ صدارت ہوا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نون آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت کے فیصلے پر قائم ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بلز کی حمایت کرے گی۔

اس حوالے سے مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ محمد آصف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی ارکان قیادت کے فیصلے کے پابند ہیں۔

x

Check Also

کراچی کی 11 یوسیز مکمل سیل کرنے کے احکامات جاری

کراچی کی 11 یوسیز مکمل سیل کرنے کے احکامات جاری

کراچی میں کوروناوائرس کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر شہر کی 11 یونین ...

%d bloggers like this: