آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے سے دو روز قبل پاکستانی فوج کے اہم عہدوں ہر بعض تبدیلیاں کی ہیں۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے مطابق بعض اہم نوعیت کے تبادلوں کے علاوہ دو میجر جنرلوں کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دے کر انھیں بھی اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی بری فوج کے سربراہ کے طور پر مدت ملازمت 28 نومبر کو ختم ہو رہی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان ان کی ملازمت میں تین برس کی توسیع کی منظوری پہلے ہی دے چکے ہیں۔

بعض دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان نئی تقرریوں اور تبادلوں کے ذریعے جنرل باجوہ نے اپنے نئے دور کے لیے نئی ٹیم میدان میں اتاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل علی عامر اعوان اور میجر جنرل محمد سعید کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

ترقی پانے والے دو افسران لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) جبکہ لیفٹیننٹ جنرل علی عامر اعوان کو آئی جی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی تعینات کردیا گیا ہے۔

این ڈی یو ایک یونیورسٹی اور تھنک ٹینک کے علاوہ مسلح افواج کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کا اہم ادارہ ہے۔ یہاں افسران کی صلاحیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے ورکشاپس، سمینارز اور خاص کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کردیا گیا ہے۔ اس عہدے پر براجمان افسر کے ماتحت بری فوج کے تمام آپریشنل ڈائریکٹوریٹ ہوتے ہیں جس میں ملٹری انٹیلیجنس بھی شامل ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو ایڈجوٹنٹ جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ اس عہدے پر آرمی میں مین پاور کے علاوہ نظم وضبط کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور تمام سزاؤں کا تعین بھی کرتا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل ندیم ذکی منج کو ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ڈی جی ایس پی ڈی) مقرر کردیا گیا ہے۔ اس عہدے پر ان کی پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام سمیت دیگر اہم نوعیت والے معاملات کی پلاننگ کرنی ہو گی۔

جبکہ لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود کو کمانڈر منگلا کور اور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو کمانڈر پشاور کور تعینات کیا گیا ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: