آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن (کل) تک کے لیے معطل کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے مدت ملازمت توسیع کیس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو باضابطہ فریق بنا لیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا گیا۔ وزارت دفاع اور وفاقی حکومت کو بھی نوٹس جاری کر دیئے گئے۔

تحریری حکمنامے کے مطابق  حکومت کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، نوٹیفکیشن کے بعد غلطی کا احساس ہوا اور وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی۔ صدر نے 19 اگست کو ہی سمری کی منظوری دیدی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے ہیش نظر آرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے۔

علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے، کسی ایک افسر کا نہیں، علاقائی سکیورٹی کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔

اٹارنی جنرل مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہ کر سکے، آرمی رولز کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے

 ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا، چھکڑا گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے، کیس میں اٹھنے والی تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے 25 میں سے صرف 11 ارکان نے توسیع کی منظوری دی، صدر کی منظوری کے بعد معاملہ کابینہ میں پیش کیا گیا، کابینہ کے بعد سمری وزیراعظم اور صدر کو پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے کیس کو مفاد عامہ قرار دیتے ہوئے سماعت کیلئے منظور کر لیا۔ درخواست گزار کی عدم پیروی کے باوجود  184 تین کے تحت معاملے کو قابل سماعت قرار دےدیا۔

اٹارنی جنرل نے قانون کی کوئی ایسی شق نہیں بتائی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت میں توسیع دوبارہ تعیناتی کی اجازت ہو، وزیر اعظم نے خود آڈر پاس کر کے موجودہ آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دی، آرٹیکل 243 کے تحت صدر  مجاز اتھارٹی ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس اختیار ہےکہ سروسز چیف کومدت ملازمت میں توسیع دے، اٹارنی جنرل کی جانب سے خطے کی سیکیورٹی صورت حال والی بات عمومی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر درخواست گزار جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک درخواست موصول ہوئی ہوئے، درخواست گزار اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ موجود ہے، اس درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی بھی موجود نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ درخواست آزادانہ طور پر دی گئی ہے یا بغیر دباؤ کے، اس لیے ہم درخواست واپس لینے کی درخواست نہیں سنیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 184 (سی) کے تحت عوامی مفاد میں اس درخواست پر سماعت کی اور اسے ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا۔

درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ‘صرف صدر مملک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتے ہیں’، وزیراعظم کو اس توسیع کا اختیار نہیں، جس پر عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور سمری کو کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی اس طرح کی درخواست دائر ہوئی تھی جو واپس لے لی گئی تھی۔

عدالت میں اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے صدر نے 19 اگست کو آرمی چیف کی توسیع کی منظوری دی تو 21 اگست کو وزیراعظم نے کیسے منظوری دے دی، سمجھ نہیں آرہا کہ صدر کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دوبارہ کیوں منظوری دی۔

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دستخط کیے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کابینہ اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی، اس پر انہیں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت نے کوئی منظوری نہیں دی۔

اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی منظوری تو صدر مملکت نے دینا ہوتی ہے۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کر رہے ہیں، ساتھ ہی عدالت نے آرمی چیف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ اس درخواست میں عدالت آرمی چیف کو فریق بنا رہی ہے۔

خیال رہے 25 نومبر کو جیورسٹ فاؤنڈیشن نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی

یاد رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی تھی۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

آرمی چیف کو مزید 3 برس کے لیے پاک فوج کا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کا مختلف سیاستدانوں اور صحافی برادری نے خیر مقدم کیا تھا۔

تاہم چند حلقوں کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی جارہی تھی۔

x

Check Also

حکومت کا عدالتی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی کور کمیٹی کے ...

%d bloggers like this: