لاہوری برگر بچے، انقلاب اور لڑکی کی لیدر جیکٹ

لاہوری برگر بچے، انقلاب اور لڑکی کی لیدر جیکٹ

گزشتہ ہفتے 15 سے 17 نومبر تک پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منعقد ہونے والے ’فیض انٹرنیشنل فیسٹیول‘ نے اتنی شہرت حاصل نہیں کی، جتنی شہرت اسی میلے کے اختتام پر انقلابی گیت گانے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک ہجوم کو ملی۔

فیض میلے میں تین دن کے دوران جہاں آرٹ، ادب، فلم، ڈرامہ، شاعری، سیاست اور سماجی مسائل پر بات ہوئی، وہیں نوجوانوں کے مسائل بھی زیر بحث رہے۔

تاہم فیسٹیول کے اختتام پر لاہور کے طلبہ کے ایک گروپ نے وہاں ڈھول کی تھاپ پر انقلابی گیت گایا جو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان بھر میں بحث کا موضوع بن گیا۔

لاہور کی یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات نے بسمل عظیم آبادی کی شہرہ آفاق نظم ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ کو ڈھول کی تھاپ پر گایا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ارد گرد کے ماحول سے بے خبر اپنی دھن میں ڈھول کی تھاپ پر معروف انقلابی نظم کو گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انقلابی گیت گانے والے طلبہ اچھے اور صاف ستھرے لباس میں دکھائی دے رہے ہیں اور ان کا یہی قصور ان کی شہرت کی وجہ اور تنقید کا سبب بھی بنا اور سب سے زیادہ لیدر کی جیکٹ پہننے والی لڑکی تنقید کی زد میں آئی۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی جانب سے انقلابی گیت گائے جانے پر کچھ افراد برہم بھی دکھائی دیے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ کو گانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان پر تنقید کرنے والے زیادہ تر افراد کا یہی کہنا تھا کہ انقلابی گیت گانے والے لاہوری برگر بچے ہیں، وہ سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں، انہیں انقلاب کا کیا پتا یا انہیں انقلاب کی کیا ضرورت؟

کچھ افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ برگر بچے اور انتہائی قیمتی لباس پہننے والے لوگ انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں۔

اسی طرح کچھ افراد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی جانب سے انقلابی گیت گانے پر برہم دکھائی دیے اور کہا کہ اگر کوئی غریب انقلاب کا گیت گاتا تو اچھا لگتا۔

انقلابی گیت گاتے ان نوجوانوں میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ لیدر کی جیکٹ پہن کر گیت گانے والی لڑکی بنی اور لوگوں نے کہا کہ 15 ہزار روپے کی جیکٹ پہننے والی انقلاب کی باتیں کر رہی ہیں۔

کچھ افراد نے ان کی لیدر جیکٹ کے حوالے سے کہا کہ انقلاب لیدر جیکٹ پہن کر گیت گانے سے نہیں آتا۔

جہاں کئی لوگوں نے انقلابی گیت گانے والوں پر تنقید کی، وہیں کچھ افراد ان کی حمایت میں بھی آئے اور دلیل دی کہ انقلاب کا تعلق امیری یا غریبی سمیت لیدر کی جیکٹ یا پرانے کپڑوں سے نہیں ہوتا۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: