وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔

ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری، معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت و دیگر افراد نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نووجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب میں سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی محنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے، انصاف اور انسانیت جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے کہ جہاں نہ انسانیت ہوتی نہ انصاف اور وہاں صرف طاقتور ہوتا ہے جو بچ جاتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بابا گرونانک کا نظریہ اور فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتا ہے، یہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتا۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں وہ لوگ جو انسانیت کے لیے آئے تھے، جن میں بڑے بڑے صوفی بابا فرید شکر گنج، نظام الدین اولیا، حضرت محی الدین چشتی شامل ہیں، لوگ آج بھی ان کے مزاروں پر جاتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ راہداری کھول سکے کیونکہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ برصغیر میں کرتارپور کی کیا اہمیت تھی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کرتارپور دنیا کی سکھ برادری کا ’مدینہ‘ ہے۔

دوران خطاب عمران خان نے کہا کہ اللہ کے تمام پیغمبر لیڈرز تھے اور لیڈر نفرت نہیں پھیلاتا بلکہ لوگوں کو ملاتا ہے جبکہ لیڈر نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا۔

ساتھ ہی نیلسن منڈیلا کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔

کرتارپور کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ ’خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے‘ اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے، جسے ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے‘، میں نے یہی کچھ نریندر مودی سے کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، ’80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں 9 لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے، اس وقت یہ انسانیت کا مسئلہ ہے یہ زمین کا مسئلہ نہیں، زبردستی ان کا وہ حق لے لیا ہے جو اقوام متحدہ کی قرادادوں نے انہیں دیا تھا۔

بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا، نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے 70 سال سے نفرتیں ہیں، جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ان کے حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور وہ دن اب دور نہیں ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گوردوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

امیگریشن کاؤنٹرز پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے یاتری کے طور پر پاکستان آنے والے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان سے خیریت بھی دریافت کی۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے بابا گرونانک کے550ویں جنم دن کی تقریبات کے آغاز پر گوردوارے میں داخل ہوتے وقت سکھ مذہب کا احترام کرتے ہوئے سر بھی ڈھانپا۔

کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو ایل او سی کی حدبندی بھی ختم ہوسکتی، وزیر خارجہ

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ کرتارپور کے دروازے دنیا بھر کے سکھ یاتروں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے، بابا گرونانک کا ایک واضح پیغام تھا اور وہ پیغام امن تھا، انہوں نے محبت کے بیج بوئے لیکن آج آپ نے دیکھنا ہے کہ برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور سکھ برادری اس فیصلے کو پھیلارہی ہے، باباگرونانک کا امن کا پیغام صوفیا، اولیا، داتا گنج بخش کا پیغام ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام بھی امن، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے ایک سال قبل بھارتیوں سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 72 برس ہوگئے، مقبوضہ کشمیر انصاف کے منتظر ہیں، ایک وعدہ ہم نے پورا کیا اب ایک آپ کریں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دنیا والو! آپ کے سامنے برلن کی دیوار گر سکتی ہے اور یورپ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے، اگر کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حدبندی بھی ختم ہوسکتی ہے اور خق خودارادیت کا وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ جس طرح آج یہ گوردوارہ سکھ برادری کے لیے کھولا گیا، کاش بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سری نگر کی جامع مسجد کشمیری مسلمانوں کے لیے کھول دیں تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کرسکیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آؤ مل کر ایک نئی طلوع کا آغاز کریں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سرحد کے اس پار تقریر کی اور وزیراعظم عمران خان کو مبارک باد دی اور شکریہ ادا کیا کہ آپ نے بھارت کے عوام کے جذبات کا احترام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی آپ وزیراعظم عمران خان کو شکریے کا موقع دے سکتے ہیں، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھا کر، پیلٹ گنز کا استعمال ختم کرکے، مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرکے ایسا کرسکتے ہیں۔

کرتارپور راہداری کا افتتاح امن کی جانب قدم ہے، وزیر مذہبی امور

اس سے قبل وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کرتارپور راہداری کا افتتاح پاکستان اور ہندوستان بننے کے بعد سے ’امن کی جانب‘ سب سے بڑا قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سکھوں کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرتارپور صاحب میں بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری ماہ وسال گزارے تھے۔

نورالحق قادری نے کہا کہ بابا گرونانک نے 6 برس عراق میں گزارے اور وہ ہر روز صبح حضرت موسیٰ ؑاور عبدالقادرجیلانی کے مزار پر جاتے تھے، یہ ان کی محبت کا پیغام تھا۔

انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک نے اپنی تعلیمات میں توحید، امن اور انسانیت کی خیر کا پیغام دیا، اس موقع پر پیر نور الحق قادری نے امید ظاہر کی کہ سرحد پار بھی محبت کا پیغام دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے تاریخ رقم کردی، نوجوت سنگھ سدھو

کرتارپور راہداری کی تاریخی افتتاحی تقریب میں بھارت سے آئے ہوئے سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو نے بھی خطاب کیا اور اپنے شاعرانہ انداز میں عمران خان کی تعریف کی۔

سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج تاریخ رقم کر دی۔

نوجوت سنگھ سدھو نے شاعری کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عمران خان نے دنیا بھر کے 14 کروڑ سکھوں کے دل جیت لیے، سکندر اعظم نے اپنی طاقت سے دنیا فتح کی، عمران خان آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں، عمران خان نے سکھ برادری پر جو احسان کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔

بھارتی سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ کچھ عمران خان جیسے لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بنایا کرتے ہیں اور یہ تقسیم ہند کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد کی رکاوٹیں ختم ہوئیں۔

نوجوت سنگھ سدھو کاکہنا تھا کہ اگر مسائل جپھی (گلے لگنے) سے حل ہوسکتے ہیں تو سرحدوں پر خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے۔

72 سال بعد ہماری خواہش پوری ہوئی، سربراہ بھارتی آکال تخت

بھارتی آکال تخت کے سربراہ گیانی ہرپریت سنگھ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر بھارت دروازہ نہ کھولتا تو ہم یہاں نہیں آسکتے تھے اور اگر پاکستان دروازہ نہ کھولتا تو ہم اندر نہیں آسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت ہی خوشیوں بھرا دن ہے، 72 سال بعد ہماری خواہش پوری ہوئی۔

کرتارپور راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمد

قبل ازیں پاکستان کی خصوصی دعوت پر بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کرتارپور راہداری کے ذریعے شرکت کے لیے پہنچے۔

سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کرتارپور راہدرای کے ذریعے پاکستان آنے والے پہلے جتھے کی قیادت کی۔

ان کے علاوہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، اداکار سنی دیول اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

زیرو لائن پر سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے پاکستان بھارت تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ نے کرتار پور راہداری پر پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری کھلنے پر سب ہی خوش ہیں کیونکہ 70 سال سے ہماری خواہش رہی ہے کہ کرتار پور راہداری کھولی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کرتارپور میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایمیگریشن اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر بابا گرونانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاک- بھارت سرحد زیرو لائن پر سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

سکھ یاتری آزادانہ اور پرامن ماحول میں خوش اسلوبی سے امیگریشن کا عمل مکمل کرنے کے بعد باحفاظت گوردوارہ دربار صاحب پہنچ گئے۔

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ اور 20 ڈالر فیس کی ادائیگی سے استثنی حاصل ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے دُنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے وسیع پیمانے پر لنگر اور قیام کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر صوبہ پنجاب کے ضلع نارروال میں عام تعطیل ہے۔

ساتھ ہی کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ اور اداکار سنی دیول بھی شرکت کریں گے۔

علاوہ ازیں کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر غیر ملکی سفرا اور ہائی کمشنرز لاہور سے کرتار پور کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور ڈائریکٹر جنوبی ایشیا و سارک ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔

گوردوارہ دربار صاحب کے صحن میں کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب کے لیے انتظامات مکمل کیے جاچکے ہیں، پاکستان کی جانب سے انتظامات پر سکھ یاتریوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

کرتار پور گوردوارہ کمپلیکس 400 ایکڑ پر مشتمل ہے،گوردوارے میں بابا گرونانک کے زیراستعمال کنواں سری کھو صاحب بھی موجود ہے۔

گوردوارے کے احاطے میں میوزیم، لائبریری، لاکر روم، امیگریشن سینٹر اور دیگر عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، ساتھ ہی لنگرخانہ اور یاتریوں کے قیام کے کمرے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

گورداورے کے خدمت گاروں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔

ساتھ ہی یاتریوں نے پاکستان کی جانب سے ریکارڈ مدت میں کرتارپور راہداری منصوبے کی تکمیل پر مبارک باد بھی دی۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر بیرون ممالک، اندرون ملک اور بھارت سے 8 سے 10 ہزار یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کرتارپور راہداری کا افتتاح پاکستان کے قومی شاعر علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پرکیا جارہا ہے جنہوں نے اپنے مجموعہ کلام بانگ درا میں تحریر نظم”نانک” میں سکھوں کے روحانی پیشوا کو اُن کی وحدانیت کے عقائد پرنہایت عزت واحترام کے ساتھ پیش کیاہے۔

راہداری کھلنے پر سکھ یاتریوں کا خوشی کا اظہار

باباگرونانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کی تقریبات میں شریک سکھ یاتریوں نے کرتارپور کے افتتاح پر سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

خاتون سکھ یاتری نے کہا کہ ‘ ہم وزیراعظم عمران خان کے بہت شکر گزار ہیں جن کی وجہ سے ہم یہاں آسکے ہیں’۔

ایک سکھ یاتری نے کہا کہ ‘ وزیراعظم عمران خان نے یہ راہداری کھول کر تاریخ رقم کی ہے، ہمیں اتنی خوشی ہے کہ ہم بیان نہیں کرسکتے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ ہماری صدیوں سے خواہش تھی ہمیں محسوس نہیں ہورہا ہے کہ ہم پاکستان میں ہیں یا کہیں اور، ہمیں اتنا پیار و محبت ملی ہے ہم بہت خوش ہیں، ہم پاکستان کے عوام اور حکومت کی جتنی تعریف کریں کم ہے’۔

یاتری نے مزید کہا کہ ‘ ہمارے گوردوارے کے جو حالات وہاں پر ہیں یہاں اور وہاں میں بہت فرق ہے’۔

ایک اور خاتون سکھ یاتری نے کہا کہ ‘ ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے ہم سالوں سے یہاں کے درشن کا سوچتے تھے’ ۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس فلکا نے کرتارپور راہداری کھلنے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راہداری کھلنے پر بہت خوشی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کے بہت شکر گزار ہیں کہ ہمیں یہاں آنے کی اجازت دی اور ہمیں خود وہاں لے کر جارہے ہیں۔

ہم سکھ برادری کیلئے اپنے دل بھی کھول رہے ہیں، وزیراعظم

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے قبل وزیراعظم عمران خان نے خصوصی پیغام میں کہا کہ کرتارپور راہداری کاافتتاح علاقائی امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کی خوشحالی اور آنے والی نسلوں کاروشن مستقبل امن میں مضمرہے۔ عمران خان نے کہاکہ بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کے موقع پر سکھ برادری کے لیے راہداری کے افتتاح کی اہمیت مسلمان اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کے حوالے سے بخوبی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کرتارپور راہداری کا افتتاح اس حقیقت کا عکاس ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ہمارے دل ہمیشہ کھلے ہیں جس کا حکم ہمارے مذہب نے دیا اور جس کاتصوربابائے قوم نے پیش کیا تھا۔

وزیراعظم نے کہاکہ آج ہم محض سرحدہی نہیں بلکہ سکھ برادری کے لیے اپنے دلوں کو بھی کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کے اس شاندارجذبہ خیرسگالی سے باباگرونانک دیوجی اور سکھ برادری کے مذہبی جذبات کے لیے اس کے احترام کی عکاسی ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اورپُرامن بقائے باہمی سے برصغیرکے لوگوں کے وسیع ترمفادات کے لئے کام کرنے کاموقع فراہم ہوگا۔

حساس مسئلے کو خوشی کے دن شامل نہیں کرنا چاہیے تھا، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتار پور راہداری کے افتتاح سے قبل ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنا کیا ہوا وعدہ نبھادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سکھوں کے چہروں پر جو رونق اور خوشی کی لہر قابل دید ہے، یاتری بہت ذوق و شوق سے یہاں آرہے ہیں اور یہ ایک بین الاقوامی ایونٹ بن چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری کو عالمی شہرت حاصل ہوچکی ہے اس اثنا میں مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کیا بابری مسجد کا فیصلہ آج ہی آنا تھا؟ کیا یہ ایک دو روز انتظار نہیں ہوسکتا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خوشی کے موقع پر بھارت کی جانب سے اتنی بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کا مجھے بے حد افسوس ہے، بھارت کو اس خوشی میں شامل ہونا چاہیے تھا، یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور حساس مسئلے کو خوشی کے دن شامل نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں سنگاپور میں تھا جہاں کرتارپور راہداری کے حوالے سے ایک خصوصی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا، اس نمائش میں پاکستان کے اندر سکھ دھرم کے جتنے اہم گوردوارے ہیں ان کی تصاویر شامل کی گئی تھیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس تصویری نمائش کے افتتاح کا کہا گیا اور جب میں افتتاح کے لیے پہنچا تو سکھ برادری کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ان لوگوں کے اندر خوشی کے جو جذبات تھے وہ بیان سے باہر ہیں وہ پاکستان کے بے انتہا شکرگزار تھے۔

کرتار پور راہداری

واضح رہے کہ گزشتہ برس 28 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے کرتارپور میں قائم گوردوارہ دربار صاحب کو بھارت کے شہر گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے منسلک کرنے والی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

کرتارپور راہداری کی بروقت تکمیل کے لیے پاکستان نے دن رات کام کیا اور 20 اکتوبر کو اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو راہداری کا افتتاح کریں گے۔

بعدازاں رواں برس 24 اکتوبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

18 نکات پر مشتمل معاہدے کے تحت 5 ہزار سکھ یاتری، انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال میں کرتارپور آسکیں گے، حکومت پاکستان یاتریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ جاری کرے گی اور ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس فیس وصول کی جائے گی۔

بعدازاں یکم نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور آنے والے یاتریوں کے لیے پاسپورٹ اور 10 روز قبل اندراج کرانے کی شرائط ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت پاکستان نے سکھ یاتریوں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے ایک سال کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے اور زائرین کی فہرست 10 روز قبل فراہم کرنے کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ 20 ڈالر کی سروس فیس میں 9 تا 12 نومبر تک کے لیے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

تاہم بھارت نے سکھ یاتریوں کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ مراعات کو مسترد کر دیا تھا۔

کرتار پور اتنا اہم کیوں ہے؟

کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گوردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہی ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے ہیں بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گوردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

x

Check Also

میڈیکل بورڈ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس میں کمی کی وجوہات جاننے میں تاحال ناکام

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای ...

%d bloggers like this: