پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملنے کی راہ ہموار

قرض کی 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملنے کی راہ ہموار

پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملنے کی راہ ہموار ہوگئی۔

آئی ایم ایف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردی ہیں۔

آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان میں معاشی استحکام بحال ہو رہا ہے، مہنگائی میں کمی کا امکان ہے، مشکل حالات کے باوجود قرض پروگرام پر بہتر عمل درآمد کیا جارہا ہے، معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں پر فیصلہ کن عمل درآمد ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مارچ 2020 تک دہشت گردی، منی لانڈرنگ روکنے کے اضافی اقدامات کرنا ہوں گے، آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کو 45 کروڑ ڈالرز کی دوسری قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا۔

آئی ایم ایف کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سہ ماہی جائزہ مذاکرات مکمل ہوگئے۔ مذاکرات کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔ پاکستان نے پہلی سہ ماہی کی تمام شرائط پوری کی ہیں۔ اصلاحاتی شرائط پرعمل درآمد جاری ہے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات آرہے ہیں جس سے معاشی استحکام بحال ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اندرونی اور بیرونی خسارے کم ہورہے ہیں،آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے جس سے شرح سود میں کمی کا امکان ہے، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ طے کررہی ہے، مرکزی بینک کے زرمبادلہ میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہورہا ہے، ٹیکس پالیسی اور ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے، مشکل حالات کے باوجود قرض پروگرام پر بہترعمل درآمد کیا جارہا ہے، مستقبل قریب کی معاشی صورتحال تبدیل ہوگئی۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ آئی ایم ایف مشن کا دورہ کامیابی سے مکمل ہوگیا، دورہ پاکستان کے لیے مثبت رہا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے پہلی سہ ماہی کی کارکردگی کے تمام اہداف حاصل کیے، آئی ایم ایف نے کارکردگی کے اہداف حاصل کرنے کی تصدیق کردی، پاکستان نے یہ اہداف اچھے مارجنز کے ساتھ حاصل کیے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہورہی ہے، وزیراعظم اور پوری ٹیم کا اس کامیابی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت عالمی مالیاتی فنڈ تین سالہ معاشی پیکج کے تحت پاکستان کو یہ رقم فراہم کرے گا۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: