نواز شریف کی زندگی کو سب سے بڑا خطرہ

نواز شریف کا اسپتال میں پانچواں دن، پلیٹیلیٹس 45 ہزار تک پہنچ گئے

سابق وزیراعظم 5 روز سے لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی طبیعت ناساز ہے۔ سابق وزیر اعظم کے پلیٹیلیٹس بڑھ کر 45 ہزار سے زائد ہوگئے جس کے بعد انہیں اسٹرائیڈز دینا بند کردیے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق پلیٹیلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہونے تک نوازشریف کی حالت خطرے سے باہر قرار نہیں دی جاسکتی جبکہ خو ن بہنے کے خدشے پر اُنہیں شیو اور ٹوتھ برش کرنے اور ناک سے بال نکالنے سے منع کردیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف کو ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کی ادویات بھی دی جارہی ہیں، قوت مدافعت بڑھانے کا تیسرا انجکشن بھی دے دیا گیا، ان کے دونوں گردوں میں معمولی پتھریاں ہیں، پراسٹیٹ گلینڈ کا مرض بھی لاحق ہے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے شکوہ کیا کہ خون کی رپورٹ اُن تک پہنچنے سے پہلے ہی میڈیا کے پاس چلی جاتی ہے لہٰذا ان کی بیماری سے متعلق رازداری قائم رکھی جائے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف نے میڈیکل بورڈ کے سامنے بیرون ملک علاج کرانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، انہیں نمک، چینی اور چکنائی کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے اور متوازن غذا دی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف کو گزشتہ روز انجائنا کا شدید درد ہوا، دل کی یہ تکلیف طبی اصطلاح میں ‘این اسٹیمی’ کہلاتی ہے  جس کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کو ایمرجنسی میں بلایا گیا ہے، طبی جانچ کے نتیجے میں نواز شریف کے دل میں اینزائمز (پروٹین مالیکیولز) کی تعداد زیادہ پائی گئی۔

ذرائع کے مطابق معالجین سابق وزیراعظم کے دل کی موجودہ تکلیف کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیوں کہ وہ دل کے عارضے میں پہلے سے مبتلا ہیں اور ان کے دو آپریشن ہو چکے ہیں۔

وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے سابق وزیراعظم کو معمولی ہارٹ اٹیک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی رات انجائنا کی تکلیف کی وجہ سے نوازشریف کو مائنر ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی پی کی تشخیص کے بعد نوازشریف کا علاج جاری ہے، اُن کے پلیٹیلیٹس بڑھ کر 45 ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔

ایک سوال پر یاسمین راشد نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے، ملک میں عالمی معیار کے ڈاکٹر ہیں جو ہر علاج کرسکتے ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسرڈاکٹرمحمود ایاز کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس 40 ہزار کے قریب پہنچ گئےہیں اور اب ان کی حالت اب بہتر ہے جب کہ انجیو گرافی نہیں کی جارہی۔

ڈاکٹرمحمود ایاز کے مطابق نوازشریف کوبلڈ پریشراورشوگرکی ادویات کے ساتھ انجیکشن لگ رہے ہیں تاہم وہ وینٹی لیٹر پرنہیں ہیں۔

خیال رہے کہ اسپتال منتقلی سے قبل سابق وزیراعظم کے خون کے نمونوں میں پلیٹیلیٹس کی تعداد 16 ہزار رہ گئی تھی جو اسپتال منتقلی تک 12 ہزار اور پھر خطرناک حد تک گرکر 2 ہزار تک رہ گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کے پلیٹیلیٹس میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور انجائنا کی تکلیف کے حوالے سے بھی امراض دل کی ادویات شروع کر دی گئی ہیں۔


x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: