ایف اے ٹی ایف ‘گرے لسٹ’ سے جون تک نکلنے کی امید

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جون 2020 تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ‘گرے لسٹ’ سے نکل جائے گا۔

اسلام آباد میں فنانشنل مینجمنٹ یونٹ کے ڈائریکٹر منصور صدیقی، کاؤنٹر ٹیررازم شعبہ کے ڈائریکٹر احمد فاروق اور نیکٹا کے ڈائریکٹر شہزاد سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کو فروری 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، جون 2018 میں ایکشن پلان دیا گیا، پاکستان اس وقت ‘ایف اے ٹی ایف’ کی نگرانی کے دو مراحل سے گزر رہا ہے، ایک ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) ہے جبکہ دوسرا انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ (آئی سی آر جی) ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لابی یہ چاہتی تھی کہ پاکستان کے حوالے سے دونوں نگران گروپوں کو یکجا کیا جائے، تاہم ہم نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اکتوبر 2020 تک کا وقت ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘آئی سی آر جی’ کے ایکشن پلان میں پاکستان کو 27 ایکشن آئٹم دیئے گئے تھے، اس کی نگرانی کا وقت 15 ماہ ہے، ہماری حکومت نے ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے موثر انداز میں کام کیا، ستمبر 2019 تک پاکستان نے 27 ایکشن آئٹم میں سے 22 پر نمایاں پیشرفت کی ہے جس کا ستمبر کی رپورٹ میں اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایف اے ٹی ایف’ کے پلانری اجلاس میں بھی اچھی پیشرفت ہوئی ہے، کئی ممالک نے پاکستان کی حمایت کی اور پاکستان کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا، لیکن چونکہ ایف اے ٹی ایف کی کارروائی مخفی رکھی جاتی ہے اس لیے ہم وہ تفصیلات نہیں دے سکتے۔

حماد اظہر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ 2020 تک آئی سی آر جی کے ایکشن پلان سے متعلق نکات کو مکمل کیا جائے گا اور ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ جون 2020 تک پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک گروپ کی نگرانی کا عرصہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس میں پاکستان کے لیے 40 نکات دیے گئے تھے جس میں 10 مکمل اور 26 جزوی طور پر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 4 نامکمل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح آئی سی آر جی ایکشن پلان ہے اور اس پر موثر انداز میں کام ہو رہا ہے، یہ ایک چیلنجنگ عمل ہے جس میں ہمیں کامیابی ملے گی۔

ایک سوال پر حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کو جو ایکشن پلان دیا گیا ہے وہ قابل حصول ہے اور اس پر عملدرآمد پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، جنوری کے پہلے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ آجائے گی جبکہ ہم اپنے اقدامات جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے حوالے سے صوبوں سے قابل اطمینان ردعمل ملا ہے، ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ بنانے کا مقصد بھی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔

ایف اے ٹی ایف میں بھارت کے کردار سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے ہم نے رکن ممالک کو آگاہ کر دیا تھا، بھارت کو اس طرح کے تکنیکی فورمز پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: