‘آزادی مارچ’ کی اجازت

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ‘آزادی مارچ’ منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اس بات کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کے بعد کیا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں بنائی گئی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اپوزیشن کے آزادی مارچ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اس ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ‘جمہوری نظریات کو برقرار رکھنے کے اپنے پختہ یقین کے ساتھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کی جانے والی تشریح کے دائر کار میں رہتے ہوئے مجوزہ آزادی مارچ کیا جاتا ہے تو اس کی اجازت دی جائے گی’۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے بتایا کہ ‘وزیراعظم احتجاج کے جمہوری حق پر یقین رکھتے ہیں’۔

واضح رہے کہ مظاہرین کو اس وقت تک احتجاج کی اجازت ہوگی جب تک وہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں شہریوں کے روز مرہ کی زندگی کو متاثر نہ ہونے دیں۔

تاہم جہاں ایک جانب اپوزیشن کو آزادی مارچ کی اجازت دی گئی تو وہی اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون میں پہنچنے سے روکنے کے لیے حساس علاقوں میں کنٹینرز منگوالیے ہیں۔

آزادی مارچ


واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔

اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد ‘وزیراعظم’ سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان ‘جعلی انتخابات’ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اس لانگ مارچ کے لیے پہلے 27 اکتوبر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اسے 31 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا جاتا ہے، لہٰذا اس روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

اس آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔

ابتدائی طور پر کمیٹی کے رکن اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔

تاہم 20 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی کے وفد کو صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ اب اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

علاوہ ازیں 21 اکتوبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: