سندھ: ہسپتال بغیر کارروائی فوری علاج کرنے کے پابند

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ’سندھ انجرڈ پرسن کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019‘ کی منظوری دے دی۔

اس قانون کے تحت تمام ہسپتال اس بات کے پابند ہوں گے ہسپتال میں لائے گئے کسی بھی زخمی شخص کو بغیر میڈیکو لیگل رسمی کارروائی پوری کیے فوری طور پر علاج معالجے کی سہولت دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کی اندھی گولی کا شکار ہونے والی 10 سالہ امل عمر کی موت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک نجی ہسپتال نے صرف میڈیکو لیگل کارروائی سرانجام دینے کے لیے اس بچی کی زندگی کے 40 قیمتی منٹ ضائع کیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس سب کو روکنا ہوگا ہم میڈیکو لیگل کارروائیاں پوری کرنے کے لیے کسی کی زندگی خطے میں ڈالنے اجازت نہیں دے سکتے‘۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت زخمیوں کے فوری علاج کے لیے فنڈ بھی قائم کرے گی۔

خیال رہے کہ امل عمر کی ہلاکت کے بعد سندھ حکومت نے مذکورہ بل کی منظوری دی تھی جس کے مطابق تمام نجی و سرکاری ہسپتال بغیر کسی تاخیر، میڈیکو لیگل کارروائی پوری کیے، ترجیحی بنیاد پر زخمیوں کا علاج کرنے کے پابند ہوں گے۔

مزید یہ کہ علاج فراہم کرنے سے قبل وہ زخمی شخص یا اس کے اہلِ خانہ سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ بھی نہیں کرسکیں گے۔

اسی علاج کے تحت پولیس کو اس وقت تک مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک زخمی کی حالت خطرے سے باہر نہ آجائے۔

یاد رہے کہ گزشتپ برس کراچی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں امل عمر کو گولی لگی تھی۔

ان کی والدہ کے مطابق زخمی بچی کو فوراً نیشنل میڈیکل سینٹر پہنچایا گیا تھا جہاں ان کا علاج نہیں کیا گیا اور اہلِ خانہ کو کہا گیا کہ امل کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر یا آغا خان ہسپتال لے جائیں، بعدازاں علاج میں تاخیر کے سبب کم عمر امل دم توڑ گئی تھیں۔

ان کی ہلاکت نے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور پولیس کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہسپتال انتظامیہ کی غفلت پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے تھے۔

مخنثوں کی نمائندگی


علاوہ ازیں سندھ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سرکاری اداروں میں خواجہ سراؤں کے لیے 0.5 فیصد کوٹہ بھی مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ کا اس بارے میں کہنا تھا کہ وہ ’خواجہ سرا افراد کو مرکزی دھارے میں لا کر معاشرے کا کارآمد حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خواجہ سراؤں کو ہدایت کی کہ ملازمت کے لیے درخواست دینے سے قبل تمام متعلقہ دستاویزات مکمل کرلیں اور تعلیم پر توجہ دیں۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے خواجہ سراؤں کے لیے 0.5 فیصد کوٹہ صرف محکمہ پولیس میں مختص کیا تھا جسے اب دیگر سرکاری اداروں میں بھی نافذ کیا جائے گا۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: