غیر ملکی سفرا، میڈیا نمائندگان کا دورہ کنٹرول لائن

پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جورا سیکٹر کا دورہ کروایا اور اس موقع پر بریفنگ بھی دی گئی۔

ایل او سی کا دورہ کرنے کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان وادی نیلم پہنچے، تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں آئے۔


ایل او سی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفرا کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے

اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز نے ان مقامات کا جائزہ لیا جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی سے نقصان پہنچا تھا جبکہ ان ہتھیاروں کا بھی معائنہ کیا جو بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران شہری آبادی پر داغے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ


ایل او سی کے دورے کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے غیر ملکی سفرا اور میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دی گئی


اس دوران غیر ملکی سفارتکاروں کو پیشکش کی گئی کہ جہاں مرضی جائیں اور خود صورتحال کا جائزہ لیں۔

بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2018 میں بھارت کی جانب سے 3038 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، جس میں 58 شہری شہید اور 319 زخمی ہوئے۔

اسی طرح انہوں نے بتایا کہ 2019 میں بھارت نے اب تک 2 ہزار 608 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 44 شہری شہید اور 230 زخمی ہوچکے ہیں۔

سفارتکاروں کو بریفنگ میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان یہ فرق ہے کہ ہم فوجی اقدار پر عمل کرتے ہیں اور صرف بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں پابندیوں کو 79 دن ہوچکے ہیں، بھارتی آرمی چیف کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہوچکے ہیں کیونکہ سفارتی برادری ان کے پیچھے نہیں ہے۔

اپنے دورے میں غیر ملکی سفارتکار جورا بازار بھی گئے، جہاں وہ مقامی آبادی اور دکانداروں سے ملے اور انہوں نے خود دکانوں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا، جن کے بارے میں بھارت لانچ پیڈز کا دعویٰ کررہا تھا جبکہ حقیقت میں یہ تمام شہری ہیں جنہیں بھارت کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

بھارت کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی، ترجمان دفتر خارجہ


ادھر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ سفارتکاروں نے خود زمینی حقائق دیکھے اور پاکستان کی کاوشوں کو قابل قدر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے سچ دیکھ لیا، بھارتی جھوٹ بے نقاب ہوگیا اور ان کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے معصوم شہریوں کو شہید کیا اور املاک کو نقصان پہنچا کرکیمپس تباہ کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا، تاہم آج دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارتی آرمی چیف کا مبینہ کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ بےنقاب ہوگیا۔

قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ کی اور لکھا کہ کتنا اچھا بھارتی ہائی کمیشن ہے جو اپنے آرمی چیف کے ساتھ ہی کھڑا نہیں ہوسکتا؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں ساتھی سفرا کے ساتھ ایل او سی جائیں، تاہم غیر ملکی سفرا اور میڈیا کا ایک گروپ ایل او سی جارہا ہے تاکہ وہ زمینی حقائق دیکھ سکے۔

اس دورے سے کچھ گھنٹوں قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کچھ ٹوئٹس بھی کی تھیں، جس میں دورے کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہ گیا، بھارت کا کوئی سفارتکار ایل او سی کے دورے پر نہیں آیا اور نہ ہی بھارت نے مبینہ لانچنگ پیڈز کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے’۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے ایک ٹوئٹ کی تھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ‘بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیش کش کا جواب نہیں دیا، یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے کوئی زمینی حقائق موجود نہیں ہیں’۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارتی حکام جلد جواب دیں گے۔

بعد ازاں ڈاکٹر فیصل کے ٹوئٹ کے ردعمل میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کو سچ کہنے کا جواز نہیں، اگر وہ دورہ نہیں کرنا چاہتے تو ہمارے دفتر خارجہ سے جگہ کی لوکیشن شیئر کر لیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو ان مقامات پر لے جائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ زمینی حقائق کیا ہیں’۔

واضح رہے کہ 20 اکتوبر کی رات کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا آزاد جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر 3 کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ مایوس کن ہے، کیونکہ وہ ایک انتہائی ذمہ دارانہ عہدے پر فائز ہیں’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘ایسے کوئی کیمپس نہیں ہیں جنہیں ہدف بنایا گیا ہو جبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن اگر یہ ثابت کر سکتی ہے تو غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو اس جگہ لے جائے’۔

خیال رہے کہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے آزاد کشمیر میں واقع وادی نیلم میں مبینہ دہشت گرد کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں ‘اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے 5 مستقل ممالک (پی-5) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کو مبینہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہیں‘۔

دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممالک کے سفارتکاروں کو بھارت کا جھوٹ بے نقاب کرنے کے لیے ان مقامات کا دورہ کروانےکی خواہش کا اظہار کیا تھا’۔

دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ’بھارت کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے‘۔

ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی


واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان اور 6 شہری شہید ہوگئے تھے۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطے پر کیے گئے ٹوئٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ دیگر 2 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ دیگر 9 زخمی ہوگئے۔

بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے باعث 2 بھارتی بنکرز بھی تباہ ہوگئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ‘پاکستان کی موثر کارروائی کے بعد بھارتی فوج نے سفید جھنڈا لہرا دیا، بھارتی فوج نے لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کی کوشش کی’۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘بھارتی فوج کو سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے پہلے سوچنا چاہیے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے فوجی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے’۔

x

Check Also

امریکی کانگریس کی پھر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت

امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھارت کو ایک مرتبہ باور کروایا ہے کہ ...

%d bloggers like this: