ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ نہیں کرے گا، چین کی یقین دہانی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف پاکستان کے مالیاتی مستقبل کا فیصلہ آج کرے گی۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان نے چین سے توقعات لگا لی ہیں اور اس کو یقین ہے کہ ٹیررفنانسنگ پر قابو نہ پائے جانے کے باوجود عالمی تنظیم اس کو بلیک لسٹ نہیں کرے گی۔

ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ سال پاکستان کو ٹیررفنانسنگ روکنے میں مناسب اقدامات نہ کرنے پر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ پانچ دن کی مشاورت کے بعد آج یہ فیصلہ کیا جانا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے یا ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ بلیک لسٹ کر دیا جائے۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اگر ایف اے ٹی ایف پاکستان کو بلیک لسٹ کرتی ہے تو معاشی بحران کا شکار پاکستان کی معیشت بالکل ہی ختم ہوکر رہ جائے گی۔

ولسن سنٹر تھنک ٹینک کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کلگام کہتے ہیں کہ پاکستان کا اصل چیلنج ایف اے ٹی ایف کو یقین دلانا ہے کہ وہ ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے اس کی ہدایات پر مکمل اور ٹھوس عمل کر رہا ہے۔

پاکستان بھارت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اس کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان چین، ترکی اور ملائیشیا جیسے دوست ممالک کی مدد سے اس سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کسی بھی ملک کو بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے تین رکن ممالک کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق دو حکومتی اور ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے حالیہ دورہ چین میں بیجنگ سے یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔ چین فرانس میں جاری ایف اے ٹی ایف اجلاس کی سربراہی کر رہا ہے اور اس نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا۔

اس سے پہلے وزیرخزانہ حفیظ شیخ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان گرے لسٹ سے جلد از جلد نکلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اگر پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ بھی جاتا ہے تو یہ چند ماہ کا ریلیف ہوگا کیونکہ گروپ کی اگلی ملاقات فروری دو ہزار بیس میں ہوگی۔

گرے لسٹ

اس سے پہلے جرمن ادارے ڈی ڈبلیو نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس کے دوسرے دن منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے پاکستان کو فروری 2020ء تک کی مزید مہلت دے دی جائے۔

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق اجلاس میں بھارت کی طرف سے حافظ سعید کو منجمد اکاؤنٹ سے رقوم نکلوانے کی اجازت دیے جانے پر پاکستان کو اس فورس کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے معاملات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے باعث پاکستان کو مبینہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستانی سفارت کار پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے کے ‘آج کے فیصلے‘ کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اجلاس میں اس فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردوں کی مالیاتی وسائل تک رسائی کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا تاہم ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پر مزید عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ہولناک رپورٹ

خیال رہے کہ اس سے قبل فنانشل ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ اکتوبر 2018 تک کی کارکردگی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، اس لیے اس میں بہت سے ایسے اقدامات کا ذکر نہیں جو پاکستان نے گذشتہ ایک سال میں کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

اے پی جی کی اس رپورٹ میں کیا انکشافات ہیں؟

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے اے پی جی کی 40 میں سے 4 تجاویز پر اکتوبر 2018 تک عملدرآمد نہیں کیا تھا۔

جن چار تجاویز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا وہ قانونی انتظامات، باہمی قانونی معاونت اور غیر مالیاتی کاروبار اور پیشوں سے متعلق قانون سازی، ان کی نگرانی اور ان کے کسٹمرز سے متعلق معلومات جیسی تجاویز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نو ایسی تجاویز ہیں جن پر پاکستان نے مؤثر طریقے سے عملدرآمد کیا۔ ان میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے قومی سطح پر تعاون اور تنظیم سازی، منی لانڈرنگ آفینس، دہشتگردی کی مالی معاونت کو جرم قرار دینا، ریکارڈ قائم کرنا، بینکاری سے متعلق روابط، ایسی رقوم یا اکاؤنٹس کی ضبطگی، وائر کے ذریعے رقوم کی منتقلی، بین الاقوامی آلہ کار، مجرموں سے متعلق تحویلی معاہدے، ایسی تجاویز ہیں جن پر پاکستان نے مؤثر طریقے سے کام کیا ہے۔

تاہم 26 ایسی تجاویز ہیں جن پر جزوی طور پر کام کیا گیا ہے اور صرف ایک شعبہ ایسا ہے جس میں پاکستان نے اہداف کو حاصل کیا ہے اور یہ مالیاتی اداروں کے معلومات خفیہ رکھنے سے متعلق قوانین کے بارے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق جزوی عملدرآمد کا مطلب ہے کہ ان تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی ہو چکی ہے، جو کہ اہم ترین قدم ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ریاست سنجیدہ ہے۔ اس لیے جزوی عملدرآمد ہونا بنیادی طور پر ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ماہرین کے مطابق جزوی عملدرآمد ناکامی نہیں ہے۔

صرف ایک شعبہ ایسا ہے جس میں پاکستان نے اپنے اہداف کو حاصل کیا ہے۔ یہ مالیاتی اداروں کے معلومات خفیہ رکھنے سے متعلق قوانین کے حوالے سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2018 تک پاکستان نے:

دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق 228 مقدمات کا اندراج ہوا، جن میں سے پنجاب میں 49 افراد جبکہ دیگر تینوں صوبوں میں 9 افراد کو سزا ہوئی جس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 66 تنظیموں اور 7 ہزار 600 افراد پر پابندی عائد کی گئی تاہم ان کی ملکیت میں موجود فنڈز یا اثاثوں کو منجمد نہیں کیا گیا۔

2 ہزار 420 تحقیقات ہوئیں، 354 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جبکہ ایک غیر جانبدار شخص کو بدعنوانی سے متعلق لانڈرنگ پر مجرم ٹھہرایا گیا
رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے لاحق خطرات کا واضح ادراک نہیں ہے۔ تاہم وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہا ہے

اے پی جی کیا ہے؟

یہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کا ایک ریجنل گروپ ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں اپنی تجاویز پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے ریجنل گروپ بنائے جاتے ہیں، اس گروپ کے مندوبین رکن ریاستوں میں جاتے ہیں۔ ان کے قوانین اور عملدرآمد کے خدو خال کو دیکھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، اور رپورٹ تیار کی جاتی ہے جس میں اس ملک کی رینکنگ کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کہاں کیا کمی ہے اور مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

x

Check Also

حکومت کا عدالتی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی کور کمیٹی کے ...

%d bloggers like this: