جسٹس عیسیٰ کیخلاف معلومات کس نے دیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کیخلاف درخواستوں پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیراے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس پر نظر ثانی درخواستیں مارچ میں دائر کی گئیں،دس اپریل کو ایسٹ ریکوری یونٹ کو ایک صحافی نے خط لکھا۔

صحافی عبد الوحید ڈوگر کے خط میں قاضی فائز عیسیٰ کی کسی بھی جائیداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ وحید ڈوگر نے الزام لگائے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی جائیداد لندن میں ہے، وحید ڈوگر نے لندن کی جائیداد کے بارے میں آن لائن سرچ کر کے دستاویز سامنے رکھیں، جو انہوں نے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی۔

دس مئی کو وزیر قانون کو ایک خط لکھا گیا جس میں ان سے موقف مانگا گیا، پہلی بار زرینہ کھوسو کریرہ اور ارسلان کھوسو کے نام سامنے آئے۔

خود کو تحقیقاتی صحافی کہنے والے نے درخواست پر “عیسی” کے ہجے بھی غلط لکھے ہیں، صحافی کا دعوی ہے کہ اس نے لندن کے مکان کی تفصیل آن لائن سرچ سے ڈھونڈی۔

وحید ڈوگر نے جسٹس کے کے آغا کی جائیداد سے متعلق بھی معلومات دیں۔ وحید ڈوگر نے یہ بھی ایسٹ ریکوری یونٹ کو بتایا کہ کے کے آغا کے پاس دوہری شہریت ہے۔

ایسٹ ریکوری یونٹ نے کہا ہے کہ وحید ڈوگر نے لندن لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی ایک کاپی فراہم کی ہے، مئی کو ایسٹ ریکوری یونٹ نے ایک خط لکھا جس میں جج کی جائیداد کی بارے میں ذکر ہے۔ دس مئی کو ایف آئی اے کی ایسٹ ریکوری یونٹ والوں سے میٹنگ ہوئی، اس میٹنگ میں درخواست گزار کی اہلیہ کا نام اور سپین کی شہریت سامنے آئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ویزا درخواست کی وجہ سے نام سامنے آیا، جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کو پانچ سال کا ویزہ دیا گیا۔

جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا جسٹس قاضی کی اہلیہ کا نام ڈوگر کو کیسے پتا چلا، کیسے ایک جج کیخلاف تحقیقات شروع کی جاسکتی ہیں میرا یہی مدعا ہے۔

کل پھر ایک ایس ایچ او بھی درخواست پر کاروائی شروع کر دے گا۔ ججز کیخلاف تحقیقات سے متعلق قانون میں کچھ سیف گارڈز ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا ججز کے حوالے سے دو فورمز ہیں جو رائے دے سکتے ہیں۔

منیر اے ملک نے کہا شکایت وصول کرنا، ثبوت اکٹھے کرنا اور ریفرنس فائل کرنا مختلف اوقات میں سیریز کے ساتھ ہوئے ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بغیر اجازت کے جج کیخلاف تحقیقات شروع کی گئیں۔ آپ کے مطابق تحقیقات ایسٹ ریکوری یونٹ کی وجہ سے شروع ہوئیں۔ کیا آپ ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت عدالت کو بتا سکتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کیا ہے؟ اور یہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کیوں ہے؟۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وحید ڈوگر کو ایف آئی اے اور ایف بی آر نے تمام معلومات فراہم کیں؟

منیر اے ملک نے کہا کہ ڈوگر ایک جعلی شکایت کنندہ ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ میں کوئی بھی سول سرونٹ نہیں ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا وحید ڈوگر کو کیسے علم ہوا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کا؟ ہو سکتا ہے ڈوگر کے پاس مافوق الفطرت پاورز ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ کیا آپ آن لائن پراپرٹی لندن لینڈ اتھارٹی سے ریکارڈ لے سکتے ہیں؟۔ منیر ملک نے جواب دیا کہ صرف پلاٹ کا پتہ لگ سکتا ہے کس کے نام رہے پتہ نہیں لگ سکتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا سوال یہ ہے کہ پھر کیسے اس پراپرٹی کے بارے معلومات ملیں؟۔ وکیل نے کہا کہ یہ سب درخواست گزار کا اور اس کے خاندان کا پیچھا کر کے معلومات لی گئیں۔

x

Check Also

حکومت کا عدالتی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی کور کمیٹی کے ...

%d bloggers like this: