چوہدری شوگر ملز کیس: نواز شریف نیب کے حوالے

احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے چوہدری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کرکے لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا۔

احتساب عدالت کے منتظم جج چوہدری امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کی اور ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر 25 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس حوالے سے نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نواز شریف کی گرفتاری عدالت کی اجازت کے بعد عمل میں لائی گئی، اس کے ساتھ انہوں نے سابق وزیراعظم کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

چوہدری شوگر ملز میں نواز شریف کے کردار کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 2016 میں نواز شریف چوہدری شوگر مل کے سب سے بڑے شئیر ہولڈر رہے ہیں اس کے ساتھ ان کے شمیم شوگر مل میں بھی شیئرز تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شوگر مل میں نواز شریف کے ساتھ مریم نواز، شہباز شریف اور شریف خاندان کے دیگر اراکین بھی شئیر ہولڈر تھے۔

نیب کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ چوہدری شوگر ملز کے اکاونٹس میں بیرون ملک سے رقوم آتی تھیں اور 1992 میں نواز شریف کو غیر ملکی کمپنی نے ایک کروڑ 55 لاکھ روپے فراہم کیے تھے تاہم یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ اس کمپنی کا مالک کون تھا۔

دوبارہ تحقیقات کا جواز نہیں


سماعت میں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز بٹ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کبھی بھی چوہدری شوگر ملز کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اثاثوں کہ چھان بین پہلی مرتبہ نہیں ہو رہی اس سے قبل مخالف حکومتوں نے بھی کمپنیز کی تشکیل سے متعلق چھان بین کروائی لیکن کچھ نہیں ملا تھا۔

امجد پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ 1991ء میں نواز شریف کسی بھی کمپنی کے سپانسر یا مالک نہیں رہے اور نہ ہی ان کا چوہدری شوگر ملز کے قیام میں کوئی کردار تھا بلکہ شریف خاندان کی اولادیں ڈائریکٹر اور حصہ دار تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) ان تمام معاملات کی تفصیلی تحقیقات پہلے ہی کر چکی ہے جس کے بعد نیب نے ریفرنس دائر کیا تھا چانچنہ دوبارہ تحقیقات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

وکیل نواز شریف نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے کیس میں بددیانتی نظر آرہی ہے جس میں جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں جبکہ گرفتاری بھی غلط کی گئی ہے کیوں کہ یہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا کیس ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی اور نیب کے پاس چودھری شوگر ملز کا تمام ریکارڈ پہلے سے ہی موجود ہے اور پانامہ جے آئی ٹی تحقیقات کے بعد ہی نواز شریف کو سزا ہو ئی تھی اس لیے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتاری کا جواز نہیں۔

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے بتایا کہ پانامہ جے آئی ٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی)، نیب اور دیگر ایجنسیوں کے اراکین شامل تھے جنہیں نواز شریف کے تمام اثاثوں کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی جے آئی ٹی میں انٹرسروسزانٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے اراکین بھی تھے اور اس جے آئی ٹی کو پاکستان کے تمام قوانین استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اب نیب کا چوہدری شوگر ملز سے متعلق خود ساختہ انکشاف کرنا بلاجواز ہے، جبکہ نیب نے متعلقہ اداروں سے پہلے ہی تمام تر ریکارڈ حاصل کیا ہوا ہے۔

وکیل نواز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف بطور وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں اور اب جب جیل میں قید ہیں تو تفتیش کے لیے نیب والے جیل میں آ جاتے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو چوہدری شوگر مل کیس میں ریفرنس دائر کرنے کا ہرگز نہیں کہا لہذا انہیں ایک گھنٹے کے لیے بھی جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔

وکیل نواز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف 30 سالوں سے مقدمے بھگت رہے ہیں لیکن آج تک ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی، نیب بطور ایجنٹ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

دلائل کے اختتام میں ایڈوکیٹ امجد پرویز ملک نے عدالت سے نواز شریف کے خلاف چودہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کا کیس خارج کرنے کی استدعا کی۔

کرپشن ثابت کردیں سیاست چھوڑ دوں گا


دورانِ سماعت ملزم نواز شریف نے بھی روسٹروم پر آکر بیان دیا، ان کا کہنا تھا کہ نیب والے مجھ سے جیل میں ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن ایک ہی مرتبہ آئے اس کے بعد کبھی نہیں آئے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب نے جو پوچھا میں نے اس کے جواب دیے جو معلوم نہیں تھا وہ نہیں بتایا۔

انہوں نے کہا مجھ سے میرے وکیل کی ملاقات نہیں کروائی گئی میں لکھ کر دیا ہے کہ میری ملاقات میرے وکیل سے کروائی جائے۔

قائد مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ مجھ پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب جھوٹ ہیں نیب پہلے ہی ظاہر کردہ اثاثوں کی تحقیقات کررہا ہے۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ نیب اہلکاروں نے گرفتاری کے لیے جو جو الزمات لگائے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں 32 انڈسٹریز کے اندار ہمارا نام تھا بتائیں کرپشن کہاں ہوئی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں وزیر بھی رہا ہوںوزیر اعلی بھی رہا ہوں اور 3 مرتبہ وزیر اعظم بھی بنا، ان پانچوں ادوار میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت کردیں تو میں کیس سے کیا سیاست سے دستبردار ہوجاوں گا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے کاروبار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ نیب کا ادارہ پرویز مشرف نے میرے لیے قائم کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کا ایک ہی ٹارگٹ تھا وہ تھا نوازشریف، نیب صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے خلاف استمعال ہورہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں تو پہلے سے جیل میں ہوں اگر اتنی دشمنی ہے تو بتادیں کہ یہ مجھے کہاں لیکر جانا چاہتے ہیں

انہوں نے کہا کہ کسی کو انسداد منشیات کے مقدمے میں پکڑا جا رہا ہے یہ کیا طریقہ ہے اگر یہ سمجھتے ہیں مسلم لیگ ن گھبرا کر جُھک جائے گی تو یہ کبھی نہیں ہوگا۔

نواز شریف کے بیان پر کمرہ عدالت میں نعرے بازی شروع ہوگئی جس پر احتساب عدالت کے جج نے انہیں صرف موجود مقدمے پر بات کرنے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ مذکورہ کیس میں نواز شریف کی بیٹی اور پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کے ساتھ بھتیجے یوسف عباس پہلے سے ہی گرفتار ہیں۔

نیب کی جانب سے گزشتہ روز (جمعرات) کو نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے، جو پہلے ہی العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں 7 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔


نواز شریف کی پیشی کے باعث احتساب عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے اور اطراف کے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب، سینیٹر آصف کرمانی، رکنِ صوبائی اسمبلی، طلال چوہدری، کیپٹن (ر) محمد صفدر، پرویز رشید، امیر مقام، عظمیٰ بخاری، رانا ارشد اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی عدالت پہنچے، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے کارکنوں کو عدالت جانے سے روک دیا۔

احتساب عدالت میں نواز شریف کی پیشی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کے باعث سماعت روکی بھی گئی۔ اسی دھکم پیل کے دوران کمرہ عدالت میں موجود ٹیبل بھی ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) رہنما طلال چوہدری ٹیبل سے گر گئے۔

چوہدری شوگر ملز کیس


خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر مریم نواز پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے تھے جبکہ مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

اس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ساتھ ہی مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

تاہم مریم نواز نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں، جہاں سے واپسی پر انہیں گرفتارکر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا جبکہ اسی روز ان کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کو بھی گرفتار کیا تھا۔

بعدازاں ان دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی تھی تاہم 25 ستمبر کو احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مریم نواز اور یوسف عباس کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں مریم نواز کے وکیل نے ان کمپنیوں کی تحقیقات کرنے کے نیب کے دائرہ کار کو چیلنج کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ تمام خرید و فروخت سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایکٹ 2017 کے تحت ہوئیں اور شوگر ملز میں کسی بھی بے ضابطگی کی تحقیقات ایس ای سی پی کا اختیار ہے۔

ان کا یہ بھی موقف ہے کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پانامہ پیپر کیسز کی تفتیش کے دوران شوگر ملز کے تمام مالیاتی امور کی جانچ پڑتال کرچکی ہے۔

x

Check Also

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس ...

%d bloggers like this: