جے کے ایل ایف سے مارچ ختم کرنے کی اپیل

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) پر زوردیا ہے کہ وہ اپنا مارچ ختم کردے کیونکہ پروگرام کا مقصد حاصل ہوچکا ہے۔

جے کے ایل ایف کے مارچ کے شرکا کو اتوار کے روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے تقریباً 8 کلو میٹر دور چکوٹھی سیکٹر روک دیا گیا تھا اور انتظامیہ نے مظفر آباد ۔ سری نگر روڈ رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی تھی۔

اس کے بعد مارچ کے شرکا نے بڑے ٹینٹ لگا کر دھرنا دے دیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

پیر کے روز ‘جے کے ایل ایف’ کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر کی حکومت سے رکاوٹیں ہٹانے اور انہیں ایل او سی پار کرنے کی اجازت دینے کی دوبارہ درخواست کی تھی، بصورت دیگر غیر معینہ مدت تک دھرنا جاری رکھنے کا انتباہ دیا تھا۔

جے کے ایل ایف نے متبادل کے طور پر آزاد کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے نمائندوں کو یہاں مدعو کرے جن کے سامنے وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

اپنے محتاط ردعمل میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ایل او سی کی طرف جانے والے ہمارے بھائی ہیں جو عالمی برادری کو جو بتانا چاہتے تھے وہ اس میں کامیاب ہوگئے ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ دنیا کو اپنا عزم دکھانے کے بعد واپس آجائیں گے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ایل او سی کی طرف مارچ جیسی چیزیں بار بار دہرائی جائیں گی جس کے بعد اس خونی لکیر کو بالآخر مٹنا ہوگا چاہے یہ پرامن طریقے سے ہو یا دوسرے طریقے سے، جبکہ عوام کو اب اس کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی صفوں میں کوئی نظریاتی افراتفری نہیں ہونی چاہیے۔

راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ‘ہم سب کو ایک ہی نعرہ اور ایک ہی مطالبہ کرنا چاہیے اور وہ ہے استصواب رائے۔’

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے آزادی کا اصل مقصد حاصل کرنے کے لیے ہمیں ان تمام باتوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے معاشرے میں تفریق پیدا ہو۔

دوسری جانب ‘جے کے ایل ایف’ سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قانونی برادری کے نمائندوں، طلبہ اور تاجروں نے دھرنا کیمپ کا دورہ کیا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ کئی لوگ مارچ کے شرکا کے لیے گدے اور کمبل بھی لے کر کیمپ پہنچے۔

جے کے ایل ایف کے مطالبات کے حوالے سے اگرچہ کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تاہم باوثوق سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘ان مطالبات کو پورا کرنا آزاد کشمیر حکومت کے کسی بھی طرح بس میں نہیں ہے، جبکہ یہ بات جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بھی اچھی طرح جانتی ہے۔’

تاہم جے کے ایل ایف کے ترجمان رفیق ڈار نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت دفتر خارجہ کو یہ لکھ سکتی ہے کہ وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سامنے رکھیں اور ان سے تشویشناک صورتحال کی بنا پر چیناری میں اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنے کی درخواست کی جائے۔’

x

Check Also

مولانا کو قرض کی آفر

وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ‘کامیاب جوان پروگرام’ کا ...

%d bloggers like this: