حج، عمرہ زائرین کو اپنے ملک میں ہی بائیو میٹرک کرانے کی ہدایت

حج، عمرہ زائرین کو اپنے ملک میں ہی بائیو میٹرک کرانے کی ہدایت

اسلام آباد: پاکستانیوں کو حج اور عمرہ ویزا حاصل کرنے کے بعد ضروری بائیو میٹرک رجسٹریشن اپنے ملک میں ہی کرانا چاہیے تاکہ سعودی ایئرپورٹس پر پہنچنے کے بعد وقت بچایا جاسکے اور اسی کو دیکھتے ہوئے سعودی وزارت نے ایک نیا سرکلر جاری کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت حج اور عمرہ نے پاکستان سمیت بائیومیٹرک اندراج کرانے والے دیگر ممالک کو سرکلر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک کے زائرین کو روانگی سے قبل ہی خود کو رجسٹر کرالینا چاہیے۔

سرکلر میں کہا گیا کہ سعودی عرب آمد سے قبل بائیومیٹرک معلومات لینا ضروری ہے تاکہ وقت بچایا جاسکے اور سعودی عرب میں داخل ہونے میں آسانی ہوسکے۔

اس حوالے سے سعودی وزارت کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سعودی عرب آنے والے کئی ہزار زائرین کا داخلہ منسوخ کرکے ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا تھا کیونکہ ویزا کا صحیح طریقہ کار نہیں اپنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے زائرین ملک کے حج اور عمرہ کمیٹی سے رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے صحیح ویزا کیٹیگری کے لیے درخواست دیں۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس نئی متعارف کیے گئے ای ویزا ہیں وہ حج اور عمرہ کرنے کے لیے سعودی عرب میں داخلے کے لیے اس کیٹیگری کو استعمال نہیں کرسکتے۔

وزارت کا کہنا تھا کہ وزٹ ویزا میں سیاحوں کو کانسرٹس اور کھیلوں کی تقریبات میں شرکت کی اجازت ہوگی جبکہ ساتھ ہی خبردار کیا جائے گا کہ صحیح ویزا اور دستاویزات کے بغیر زائرین کو جرمانہ یا ملک بدر کرنے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دریں اثنا سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں زور دیا گیا کہ زائرین سمیت سعودی عرب جانے والوں کو حج اور عمرے سے قبل بائیو میٹرک کرانے سے فائدہ ہوگا کیونکہ بائیومیٹرک سعودی عرب میں داخلے کے لیے ضروری ہے، لہٰذا زائرین صرف اس وقت سفر کریں جب تمام ویزا کی کارروائیاں مکمل ہوجائیں۔

سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ بائیومیٹرک ہوجائے تو زائرین کو صرف کسٹمز سے گزرنا اور امیگریشن افسران سے پاسپورٹ پر مہر لگوانا ضروری ہوگا۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: