زمین کو بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں

زمین کو بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں

پاکستان میں منگل کے روز آنے والے زلزلے کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے بیان پر اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بارے میں کہا ’پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں) بیتابی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں ہے۔‘

اگرچہ فردوس عاشق اعوان نے یہ بیان مسکراتے ہوئے دیا تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین کو معاونِ خصوصی کا یہ بیان نہایت برا لگا اور انھوں نے اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے حس قرار دیا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پر ہی ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے معاشرے پر اثرات کے تناظر میں گفتگو کے دوران اچانک زلزلہ آیا جس پر حاضرین محفل کا حوصلہ بڑھانے کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کے تناظرمیں ہی یہ جملے کہے جسے غلط رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی افسوسناک کوشش کی جا رہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان کی جانب سے اپنے بیان کی توجیہہ پیش کیے جانے کے باوجود انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر فردوس عاشق اعوان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس پر حکومت کی جانب سے معذرت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انسانی تکلیف کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا اور وزیراعظم کی معاون خصوصی کا بیان بالکل غیرمناسب اور احساس سے عاری تھا اور یہ حکومت کے مؤقف کا عکاس نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ حکومت کا مطلب اجتماعی ذمہ داری ہوتا ہے اس لیے وہ وزیراعظم کی معاون خصوصی کے نامناسب بیان سے پہنچنے والی تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انسانی تکلیف کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا اور وزیراعظم کی معاون خصوصی کا بیان بالکل غیرمناسب اور احساس سے عاری تھا اور یہ حکومت کے مؤقف کا عکاس نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ حکومت کا مطلب اجتماعی ذمہ داری ہوتا ہے اس لیے وہ وزیراعظم کی معاون خصوصی کے نامناسب بیان سے پہنچنے والی تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

شیریں مزاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک اور افسوس نام بات ہے کہ انسانی جانوں کے ضیاع کے بارے میں بےحسی کا مظاہرہ کیا جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی علی سلمان علوی لکھتے ہیں کہ فردوس عاشق اعوان نے بغیر یہ سمجھے کہ زلزلہ کتنی تباہی لا سکتا ہے کس طرح آرام سے اس پر مذاق کیا ہے۔ ’یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔‘

صارف کامران یوسف لکھتے ہیں کہ زلزلے میں کئی لوگ ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی لیکن فردوس عاشق اعوان فقرے کس رہی ہیں۔‘

کئی صارفین کے مطابق معاونِ خصوصی کہنا کچھ اور چاہتی تھیں لیکن کہہ کچھ اور گئی ہیں۔

سید علی آقا لکھتے ہیں ’نشانی یہ ہے کہ تبدیلی زمین کو بھی قبول نہیں۔ فردوس عاشق اعوان صاحبہ۔‘

صارف عنبرین نے لکھا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کو ذرا سنیں۔ میں اپنا سر دیوار میں مارنا چاہتی ہوں۔ یہ پاگل پن ہے۔

پاکستان کے کئی شہروں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کی شام آنے والے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اطلاعات آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں۔

زلزلے کے بعد حکام نے اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 300 لوگ زخمی ہیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ فی الوقت زلزلے سے صرف 10 ہلاکتوں کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس زلزلے سے 100 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل میرپور کے ڈی آئی جی راجہ گلفراز خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے 19 افراد کی ہلاکت اور 300 کے زخمی ہونے کی بات کی تھی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے پنجاب کی 100 رضاکاروں پر مشتمل 20 ٹیمیں اور 6 گاڑیاں متاثرہ علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: