آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں پر تگڑا ہاتھ ڈالنے کی تیاری

منی لانڈرنگ کیس کا سامنا کرنے والے آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دو سے تین ماہ کے دوران اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔ گرفتار شدگان کو رکھنے کے لئے جگہ کا انتخاب بھی کر لیا گیا ہے۔ اگر اس عمل میں سندھ حکومت نے رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو صوبے میں گورنر راج بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے بقول سندھ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد رہنما اور ارکان اسمبلی بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔ تاہم جہاں ایک طرف یہ تیاری کی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کے کیمپ میں حیران کن طور پر اطمینان پایا جاتا ہے۔ جب پی پی کے اندرونی ذرائع سے اس اطمینان کا سبب دریافت کیا گیا تو بتایا گیا کہ آصف زرداری نے اپنے قریبی لوگوں کو تسلی دی ہے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، وہ معاملات کو سنبھال لیں گے۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں کو گرفتار کر کے لوٹا گیا پیسہ واپس لینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے بقول ان قریبی لوگوں میں بیشتر سیاسی بیک گرائونڈ نہیں رکھتے، اور نہ ان کے پاس پارٹی عہدے رہے ہیں۔ زیادہ تر کا کردار انور مجید اور اسماعیل ڈھاری، غلام قادر مری، اشفاق لغاری اور نواز لغاری جیسا رہا ہے اور سابق صدر کے فرنٹ مین کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کے کرداروں کو گرفتاری کے بعد محفوظ مقام پر رکھ کر تفتیش کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں ڈیفنس کراچی میں دو بنگلوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے دو درجن سے زائد سابق اور موجودہ ارکان اسمبلی کے خلاف بھی تحقیقات تیز ہونے جا رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر رہنما اگرچہ گزشتہ دور حکومت میں ہی نیب کے ریڈار پر آ گئے تھے، لیکن تفتیش کا عمل سست رکھا گیا۔ ان میں نواب وسان، محمد علی ملکانی، آغا سراج درانی، خورشید شاہ، مراد علی شاہ، ضیاء الحسن لنجار، اعجاز جاکھرانی، نواز وسان، عبدالرئوف کھوسو، ستار راجپر، گیان چند اسرانی، دوست محمد راہموں، ڈاکٹر عبدالستار راجپر، سہراب سرکی، سہیل انور سیال اور دیگر شامل ہیں۔ ذرائع کے بقول اگلے چند ماہ میں ان میں سے بھی کئی رہنمائوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ نیب نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے خلاف قریباً ایک ہفتہ قبل آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کی تحقیقات شروع کیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں سے خورشید شاہ کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ ان کے بیٹے اور داماد بھی اس تفتیش کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف جاری تحقیقات بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں برس اپریل میں مراد علی شاہ نیب کے سامنے پیش بھی ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے حالات کو بھانپتے ہوئے ہی علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی درخواست عدالت میں دائر کی اور اب اجازت ملنے پر باہر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم پر 2016ء میں احتساب عدالت نے 460 ملین روپے کی کرپشن ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔ ان کے خلاف 60 ارب روپے کی کرپشن اور اپنے نجی اسپتال میں دہشت گردوں کا علاج کرنے سے متعلق کیسز بھی ہیں۔ جبکہ آصف زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور وہ جیل میں ہیں۔ اسی طرح انور مجید بھی زیر تفتیش ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں پیپلز پارٹی سے قربت رکھنے والے بیورو کریٹس کے خلاف بھی نیب انکوائریاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں آصف زرداری کے بہنوئی اور سندھ کے طاقتور بیورو کریٹ تصور کئے جانے والے سابق صوبائی سیکریٹری صحت و تعلیم فضل اللہ پیچوہو، سابق انفارمیشن سیکریٹری ذوالفقار شلوانی، سابق چیف سیکریٹری صدیق میمن، سابق سیکریٹری لینڈ شہزار شمعون اور دیگر شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ان متذکرہ رہنمائوں اور بیورو کریٹس میں سے اکثریت کے خلاف پچھلے دو برس سے نیب میں کرپشن کی تحقیقات یا کیسز چل رہے ہیں۔ تاہم یہ تحقیقات سست روی کا شکار تھیں، اور اب ان تحقیقات میں تیزی لا کر سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تازہ پیش رفت سے آگاہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر احتساب کے اس عمل میں سندھ حکومت نے رکاوٹ بننے یا مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو صوبے میں گورنر راج کا آپشن خارج از امکان نہیں۔ وفاق کا گورنر سندھ میں موجود ہے، جبکہ سندھ میں بیورو کریسی کے اہم عہدوں پر بھی وفاقی حکومت کے حامی بیٹھے ہیں۔ ادھر اس سارے سنیاریو پر جب پیپلز پارٹی کے چند رہنمائوں سے آف دی ریکارڈ بات کی گئی تو ان کا دعویٰ تھا کہ پارٹی کیمپ میں کسی قسم کا خوف نہیں پایا جاتا۔ اس کا سبب بیان کرتے ہوئے ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپنے قریبی لوگوں کو تسلی دی ہے کہ وہ معاملات کو سنبھال لیں گے۔ ساتھ ہی آصف زرداری کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ تین چار ماہ صبر کر لیں، عمران خان حکومت میں شامل چھوٹی اتحادی پارٹیوں کو ساتھ لے کر نہیں چل پائیں گے۔ جیسے ہی ان میں سے چند پارٹیاں اتحاد سے علیحدہ ہوتی ہیں تو حکومت کو پیپلز پارٹی کی ضرورت محسوس ہو گی۔ ان رہنمائوں کے مطابق اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت وفاقی حکومت کا حصہ بننا چاہتی ہے، لیکن اس کیلئے وزیراعظم عمران خان تیار نہیں۔ تاہم آصف زرداری نے اپنے قریبی ساتھیوں کو باور کرایا ہے کہ جب چند ماہ بعد اپنے بہت سے مطالبات پورے نہ ہونے پر حکومت میں شامل چھوٹی پارٹیاں ممکنہ طور پر اپنے راستے الگ کریں گی تو آج انکار کرنے والے عمران خان کے سامنے پیپلز پارٹی کی مدد حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہو گا۔ ان رہنمائوں نے یاد دلایا کہ حکومت بنانے کے لئے پی ٹی آئی کو 172 نشستوں کی ضرورت تھی۔ کئی سیٹیں خالی کرنے کے بعد اس وقت اپنے اتحادیوں کو ملا کر حکومتی ارکان کی تعداد 174 رہ گئی ہے۔ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی چار پانچ سیٹیں حاصل کر لیں تو پھر بھی اس کی پوزیشن زیادہ مستحکم نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت سے رابطے میں رہنے والے ایک سینئر سیاستدان کے بقول زمینی حقائق دیکھے جائیں تو زرداری کے موقف میں کافی وزن ہے۔ قومی اسمبلی کی چار سیٹیں رکھنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی نے حکومت کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے کہ اس عرصے کے دوران لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ اسی طرح حکومت کی ایک اور اتحادی پارٹی ایم کیو ایم پاکستان کی سات نشستیں ہیں۔ ایم کیو ایم بھی حکومت سے مزید ایک اور وفاقی وزارت مانگ رہی ہے۔ جبکہ کراچی کے لئے پچاس ارب روپے کا پیکیج بھی چاہتی ہے۔ اگر ان دونوں پارٹیوں میں سے کوئی ایک بھی اتحاد سے نکل جاتی ہے تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اور اسے ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ سینئر سیاستدان کے بقول لیکن ان کے خیال میں موجودہ حکومت یہ افورڈ نہیں کر سکتی کہ وہ پیپلز پارٹی قیادت کے خلاف احتساب سے پیچھے ہٹ جائے۔ آنے والے چند ماہ میں اندازہ ہو جائے گا کہ زرداری کی مجوزہ پلاننگ کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ہانگ کانگ میں بزنس اینڈ انویسٹ منٹ اپرچونٹی کانفرنس

پاکستان قونصلیٹ ہانگ کانگ اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیراہتمام بزنس اینڈ انویسٹمنٹ اپرچونٹی ...