کیرالہ میں سیلز گرلز کو آخرکار دکان میں بیٹھنے کا حق مل گیا

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں خواتین کی ایک یونین نے ریاست میں کام کرنے والی خواتین کے لیے کام کے دوران ’بیٹھنے کا حق‘ حاصل کر لیا ہے۔بی بی سی ہندی کے عمران قریشی نے اس کامیابی کے پیچھے چھپے مشکل سفر کی کہانی بتائی۔

کئی سال تک مایا دیوی کپڑوں کی ایک دکان پر کام کرتی تھیں۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ گاہکوں کو ساڑھیاں اور کپڑوں کے تھان نکال نکال کر دکھائیں۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ کام پر بیٹھ نہیں سکتی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ہمیں اس وقت بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی جب کوئی بھی گاہک دکان میں نہ ہو۔‘ وہ کہتی ہیں کہ انھیں باتھ روم جانے کے لیے بھی بریک لینے کی اجازت نہیں تھی۔

مایا دیوی وہ واحد خاتون نہیں جنھیں ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ کیرالہ میں جیولری، یا کپڑوں ، یا کسی اور دکان میں کام کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ دکان کے مالکان انھیں اپنی ساتھیوں سے بات کرنے سے یا بہت دیر کھڑے رہنے کے بعد دیوار سے ٹیک لگانے سے بھی روک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ان احکامات پر عمل نہیں کرتیں تو ان کی تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے۔

یہ قواعد اس قدر عام تھے کہ ریٹیلرز کے پاس کام کرنے والی خواتین کو لڑ کر بیٹھنے کا حق لینا پڑا ہے۔ کیرالہ کی حکومت نے چار جولائی کو اعلان کیا کہ لیبر قوانین میں ترمیم کر کے اس میں بیٹھنے کا حق شامل کیا جائے گا۔

محکمہِ لیبر کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ’جو چیزیں نہیں ہونی چاہیے تھیں وہ ہو رہی تھیں۔ اسی لیے ہم نے قانون سازی کی، جس کے تحت خواتین کا بیٹھنا لازمی کر دیا گیا اور انھیں باتھ روم جانے کے لیے وقت دینا بھی ضروری کر دیا۔

اہلکار کے مطابق نئے قانون کے تحت خواتین کو باتھ روم بریک دینا اور باتھ روم تک رسائی دینا لازمی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

ہمسایہ ریاست کرناٹک میں ٹریڈ یونین کی رہنما میتری کا کہنا ہے کہ ’یہ تو بہت بنیادی بات ہے۔ ہمارا تو خیال تھا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ انسان کو بیٹھنے کی ضرورت پڑتی ہے، باتھ روم کی، پانی پینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بنیادی باتوں پر تو قانون سازی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف کیرالہ ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ہوتا ہے۔‘

دکانوں میں کام کرنے والوں کی اکثریت خواتین کی ہے تاہم اکثر انھیں تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ کچھ اندازوں کے مطابق صرف سات فیصد انڈیئنز کو مکمل بینیفٹس حاصل ہوں۔

43 سالہ دیوی کہتی ہیں کہ انھیں ہیلتھ انشورینس یا پینشن جیسے بینیفٹس کبھی نہیں دیے گئے۔ 2014 میں جب انھوں نے یونین بنا کر یہ چیزیں حاصل کرنے کی کوشش کی تو انھیں نوکری سے نکال دیا گیا۔

دیوی کہتی ہیں کہ وہ ویجی پالتھوڈی سے بہت متاثر ہوئی تھیں جو کہ ’بیٹھنے کے حق‘ کی تحریک کی بانی ہیں۔

پالتھوڈی 16 سال کی تھیں جب انھو ںے ایک درزی کی دکان میں پہلی مرتبہ نوکری شروع کی۔ اپنے کیریئر کے دوران ان کی ملاقات دیوی جیسی لڑکیوں سے ہوئی جو کہ ریٹیل دکانوں میں کام کرتی تھیں۔ جب انھوں نے ان کی کہانیاں سنیں تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بارے میں کچھ کریں گی ضرور۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں انھوں نے اس حوالے سے ملاقاتوں کا انتظام کرنا شروع کیا۔

ویجی پالتھوڈی بتاتی ہیں کہ ان ملاقاتوں میں خواتین ان کے پاس آ کر روتی تھیں اور بتاتی تھیں کہ گرمیوں میں انھیں پانی نہیں پینے دیا جاتا یا باتھ روم نہ جانے کی وجہ سے انھیں کیسے بیماریاں لگ جاتی ہیں۔

مینیجر سی سی ٹی وی کیمروں سے ان کی ہر ایک چال پر نظر رکھے ہوئے تھے اور جو خواتین بیٹھتی تھیں، ان کی تنخواہیں کاٹی جاتی تھیں، چاہے دکان میں کوئی گاہک ہو یا نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ خواتین انھیں جو کہانیاں بتاتی ہیں ان میں ایسے واقعات بھی تھے کہ مینیجرز نے انھیں کہا کہ اگر باتھ روم ضروری جانا ہے تو اپنے انڈرویئر کے ساتھ پلاسٹک بیگ باندھ لیں، یا مرد ان سے پوچھتے ہیں کہ جو پانی کی بوتلیں آپ ساتھ لا رہی ہیں کیا وہ پیشاب کے لیے ہیں؟

ویجی پالتھوڈی کہتی ہیں کہ ’ایسے بیانات خواتین کو تزہیک آمیز لگتے تھے۔ اسی لیے ہم نے یونین بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

2009 میں انھوں نے ایک گروپ شروع کیا جس کا نام پنکوتام تھا جس کا مقامی زبان میں مطلب ہے ’خواتین کا گروہ‘۔ بعد میں یہی گروپ ایک ٹریڈ یونین بن گیا۔

پنکوتام اب نہ صرف بیٹھنے کے حق سے جانی جاتی ہے بلکہ یہ دیگر بینیفٹس اور کام پر بہتر حالات کی کوششیں کر رہا ہے۔

پالتھوڈی بتاتی ہیں کہ ایک وقت تھا کہ خواتین 8 سے 10 گھنٹے دکان پر کام کرتی تھیں اور ان کی آمدنی ایک ڈالر سے کم ہوتی تھی۔ اب کئی سال کی کوششوں کے بعد یہ تقریباً 8 ڈالر فی روز تک پہنچی ہے۔

بیٹھنے کو لازمی قرار دینے والے قانون کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ اس قانون کو لانے کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ حکام اور دکان دار مغرور تھے۔ „جب ہم حکام کو شکایت کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ بیٹھنے کی اجازت دینے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

اگرچہ قانون جلد ہی بننے والا ہے مگر پالتھوڈی کہتی ہیں کہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ’جب اس قانون کا حتمی مسودہ سامنے آئے گا پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم نے جدوجہد جاری رکھنی ہے یا نہیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

ڈاکٹر عافیہ کے دونوں بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں

حکومتی رویوں سے دلبرداشتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ بالخصوص ان کے دونوں بچوں ...