خالص دودھ صارف کی پہنچ سے دور

خالص دودھ صارف کی پہنچ سے دور

دنیا میں دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کاچوتھا نمبرہےمگر اس کے باوجود بھی اکثر آبادی کو خالص اور صحت مند دودھ دستیاب نہیں۔

ہر سال پاکستان میں بیالیس ارب لٹر دودھ نکالاہوتا ہےمگرشہریوں کے نصیب میں خالص دودھ میسر نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کولڈ چین نہ ہونے کی وجہ سے کسان دودھ میں برف اور کیمیکل شامل کرتے ہیں۔ دودھ بڑھانے کے ٹیکوں کی وجہ سے بھی جانوروں سے بیماریاں انسانوں میں آتی ہیں۔

 

عدالت عظمی نے حال ہی میں جانوروں کے دودھ بڑھانے کے لئے لگنے والوں ٹیکوں پر پابندی کا حکم دیاہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر حکومت عمل درآمد کرے تاکہ لوگوں کو خالص دودھ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

گٹکا کھانے سے یومیہ 20 نوجوان منہ کے کینسر میں مبتلا

گٹکے اور ماوا کھانے سے یومیہ 20 نوجوان منہ کے کینسر میں متبلا ہورہے ہیں ...