dunya today

تیل تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ایران: سعودی عرب

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات جاری ہیں ، اگر ایران ملوث نکلا تو جوابی کارروائی کریں گے۔

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ نے ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آرامکو کی تنصیبات پر ایرانی ہتھیاروں سے حملے کیے گئے تھے، ایرانی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے ہم ایران کو حملوں کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ حملے یمن سے نہیں بلکہ شمال کی جانب سے کیے گئے تھے، آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

وزیرمملکت برائے خارجہ کے مطابق حملوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، ان تحقیقات میں اگر ایران ملوث نکلا تو جوابی کارروائی کریں گے، ہم اپنے اتحادیوں سے اگلے اقدامات پر مشاورت کررہے ہیں۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے کبھی ایران کی جانب کوئی میزائل داغا نہ کوئی ڈرون بھیجا، نہ ہی ایران کی جانب کبھی ایک گولی تک چلائی۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا پس منظر


یاد رہے کہ 14 ستمبر 2019 کو سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حملے کیے گئے تھے جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری یمن میں حکومت اور عرب عکسری اتحاد کے خلاف برسرپیکار حوثی باغیوں نے قبول کی تاہم امریکی صدر نے ٹوئٹس میں اشارہ دیا کہ امریکا جانتا ہے کہ یہ حملے کس نے کیے لیکن وہ سعودی عرب کے جواب کا انتظار کررہا ہے کہ وہ کسے ذمہ دار سمجھتا ہے۔

اس کے بعد عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کا بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے یمن سے نہیں کہیں اور سے ہوئے اور اس میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے۔

ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے ایران سے ہوئے اور اس میں کروز میزائل استعمال کیے گئے۔

اس کے بعد 18 ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے گئے۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حملوں میں 18 ڈرونز اور 7 کروز میزائل جس سمت سے استعمال کیے گئے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے یمن سے نہیں ہوئے۔

کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ملنے کے جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ حملے شمال کی جانب سے کیے گئے اور بلاشبہ اسے ایران نے ‘اسپانسر’ کیا۔

21 ستمبر کو امریکا نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر مزید فوجی دستے اور سازو سامان بھیجنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکا نے ایران کے مرکزی بینک اور دو مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کیں جنہیں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اب تک کی سب سے بڑی معاشی پابندیاں قرار دیا گیا۔

اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے خبردار کیا ہے کہ ایران جارحیت کرنے والے ملک کو تباہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک نے بھی ایران پر حملہ کیا اسے ہی میدان جنگ بنادیں گے، ہم کسی بھی جارحیت کرنے والے ملک کا مسلسل تعاقب کریں گے اور اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ مکمل تباہ نہ ہوجائے لہٰذا محتاط رہیں اور غلطی نہ کریں۔

اس تمام تناظر میں ایران نے مؤقف اپنایا کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ یمن میں عرب عسکری اتحاد کی کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

x

Check Also

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے دنیا کی مقبول ترین انیمیٹڈ تصاویر شیئر کرنے والی سروس گفی کو ...

%d bloggers like this: