dunya today

’’پاکستان عسکری قوت نے نہیں بنایا‘‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی عسکری قوت نے نہیں، ایک سوچ نے بنایا تھا۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی شخص یا ادارہ آئینی حدود سے تجاوز کرے تو اسے روکنا عدلیہ کا کام ہے۔

ملک چلانے کے لئے طریقہ کار بنایا گیا جسے آئین کہتے ہیں۔ ملک میں جمہوریت ایک فریضہ ہے۔ جمہوری اصولوں پر گامزن رہنے ہی سے ملکی سالمیت برقرار رہے گی۔

ادارے حدود سے تجاوز کریں تو ملک کمزور پڑ جاتے ہیں۔

عوام کی آواز دبانے اور مارشل کے باعث آدھا ملک کھو دیا ہے۔ اب ہم جہاں رہتے ہیں یہ نصف پاکستان ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ نے موبائل ٹیکس پر فیصلہ دیا، جس سے ملک کو سو ارب کا نقصان ہوا۔

بعد میں پتہ چلا کہ موبائل فون ٹیکس پر فیصلہ دینا عدلیہ کا کام ہی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندیاں غیر آئینی ہیں۔ سرکاری اشتہارات اور صحافیوں کو برطرفی والی ہتھکنڈے غیر آئینی ہیں۔

کیبل آپریٹرز کو فون کر کے چینل بند کر انا غیر آئینی ہے۔

جبری حاکم مسلمانوں کو مسلمان بنانے اور بدعنوانوں کے خاتمے کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: