عمر ملک dunya today

وقار مصباح پارٹنر شپ کب تک چلے گی؟

تحریر: عمر ملک

ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی ورلڈ کپ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ میں تبدیلی کا بھونچال آیا اور اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے گیا۔ شومئی قسمت کہ ملک کے اقتدار کے ایوان میں بھی ایک سابق کرکٹر اور عالمی کپ کا فاتح کپتان بیٹھا ہوا تھا جس نے پاکستان کرکٹ کے نظام کو بدلنے کا نعرہ اپنی انتخابی مہم کا بھی حصہ بنایا تھا ۔ موصوف نے پاکستان کرکٹ کو ٹھیک کرنے کےلیے دو انگریز بابوں کو امپورٹ کیا جس میں احسان مانی کی حد تک تو کچھ بات سمجھ آتی ہے۔۔۔ گو انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ بھلے نہ کھیلی ہو مگر آئی سی سی کی چیئرمین شپ ان کی پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے لیے کافی کوالیفکیشن ہے ۔۔۔ مگر وسیم خان نامی کلب کرکٹر والی بات کچھ ہضم نہیں ہو پا رہی ۔۔۔ بہرحال وسیم خان نے ایم ڈی کا عہدہ سنبھالتے ہی عمران خان کے ڈومیسٹک کرکٹر کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو خیربادکہہ کے ریجنل ٹیمیں بنا دیں ۔۔۔ اب اس کے پاکستان کرکٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس پر بحث پھر کبھی سہی۔۔۔ ابھی بات کرتے ہیں پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کی جو گذشتہ دو دہائیوں اور خصوصا مارچ 2009 میں سری لیکن ٹیم پر لاہور میں حملے اور 2010 کے میچ فکسنگ کے واقعہ کے بعد سے شدید زوال پذیر ہے ۔۔۔

تحریر: عمر ملک


2019 کے عالمی کپ کے پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز جیسی کمزور ٹیم سے عبرتناک شکست نے پاکستان ٹیم کی حقیقت آشکار کر دی تھی مگر ٹورنامنٹ کے اختتام میں پہلے جنوبی افریقہ اور پھر فائنلسٹ نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ٹیم پاکستان نے ناقدین کو حیران تو کیا مگر اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا ۔۔۔ ٹیم کی شرمناک انداز میں وطن واپسی ہوئی اور وہی ایک بات کا چرچہ ہوا جو بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ اب ورلڈ کپ 2023 کے لیے ٹیم بنانے کی تیاری ہو رہی ہے پیچھے جو ہوا اس پر ” مٹی پاو” ۔۔۔۔


چیف سلیکٹر انضمام الحق، ہیڈ کوچ مکی آرتھر ، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور بولنگ کوچ اظہر محمود کو ناقص کارکردگی پر گھر بھیج دیا گیا (حالانکہ اسی کوچنگ سٹاف نے دو سال قبل پاکستان کو آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی جتوائی تھی ) اور ان کی جگہ نئے سٹاف کی تقرری کے لیے اشتہارات، انٹرویو اور دیگر فارمیلٹیز پوری کرنے کے بعد احسان مانی اور وسیم خان کی نظرکرم ایک گوہر نایاب پرپڑی اور کچھ زیادہ ہی پڑ گئی کہ ان کو ٹیم پاکستان کے چیف سلیکٹر ، بیٹنگ کوچ اور ہیڈ کوچ کے لیے ایک ہی انسان پوری دنیا میں موضوع لگا اور وہ تھے میانوالی کے مصباح الحق خان نیازی (اب میانوالی اور نیازی ان کے اور عمران خان کے بیچ مشترک محض اتفاق ہی ہو سکتا ہے) اس کے علاوہ بھی مصباح الحق کو بورڈ میں دیگر ذمہ داریاں دی گئیں اور کوئی 30 لاکھ کے لگ بھگ یہ انمول رتن تین سال کے لیے پاکستان کرکٹ کا مضبوط ترین عہدے دار بن گیا حالانکہ وہ جب پاکستان ٹیم کے کپتان تھے تو اتنے مضبوط نہ تھے ۔۔۔


اور ان تمام عہدوں کے بعد اب کوئی جگہ بنتی تھی تو وہ تھی باولنگ کوچ کی جس کے لیے پاکستان بلکہ دنیا کے مایہ ناز فاسٹ باولر وقار یونس چوتھی بارمنتخب کیا گیا (یہ الگ بات ہے کہ وقار یونس کے علاوہ کسی سابق کھلاڑی نے پاکستان ٹیم کے باولنگ کوچ کے لیے درخواست ہی نہیں دی تھی) ۔۔۔ وقار یونس کا کرکٹ کیرئیربہت ساری کامیابیوں اور تنازعات سے بھرا پڑا ہے مگر وہ ایک دہائی سے زائد پر محیط اپنے کوچنگ کیرئیر میں بھی مختلف تنازعات میں ہی گھرے رہے ۔۔۔ 2003 کا کرکٹ کا عالمی کپ جہاں پاکستان کرکٹ کے بہت سے نامور کرکٹر کا آخری ٹورنامنٹ ثابت ہوا وہیں وقار یونس کی کپتانی اور کرکٹ کیرئیر کا ستارہ بھی اسی عالمی کپ کے ساتھ ڈوب گیا ۔۔۔ دوسال آرام کے بعد مارچ 2006 میں وقار یونس کو پہلی بار پاکستان کرکٹ ٹیم کا بولنگ کوچ تعینات کیا گیا مگر ایک سال سے بھی کم کے عرصے میں ان کے کرکٹ بورڈ سے اختلافات شروع ہو گئے اور جنوری 2007 میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا اور جاتے جاتے کپتان انضمام الحق پر بھی الزام دھر گئے کہ وہ ان کے بجائے مشتاق احمد کو باولنگ کوچ بنوانا چاہتے ہیں ۔۔۔ انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد دسمبر 2009 میں وقار یونس کو ایک بار پھر پاکستان تیم کا باولنگ اور فیلڈنگ کوچ تعینات کیا گیا اور فروری 2010 میں انہوں نے انتخاب عالم کی جگہ پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں ۔۔۔


بطور ہیڈ کوچ وقار یونس کی پہلی اسائنمنٹ تھی ٹی 20 کی عالمی چیمپئین کے دفاع کی جنگ ۔۔۔ 2010 کے ویسٹ انڈیز میں کھلیے گئے ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کو تجربہ کار بیٹسمین محمد یوسف ، یونس خان اور شعیب ملک کی خدمات تو حاصل نہ تھیں مگر پھر بھی یہ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئی مگر سیمی فائنل میں مایہ ناز آسٹریلوی بیٹسمین ڈیورڈ ہسی نے سعید اجمل کے آخری اوور میں تین لگاتار چھکے لگا کر فتح پاکستان کے منہ سے چھین لی اور یوں پاکستان کا لگاتار دوسری مرتبہ عالمی چیمپئین بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا ۔۔۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم نے وقار یونس ہی کی کوچنگ میں انگلینڈ کا وہ دورہ کیا جس نے پاکستان کرکٹ کو نا تلافی نقصان پہنچایا اور کپتان سلمان بٹ سمیت 3 کرکٹروں کو نہ صرف عالمی کرکٹ میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی ۔۔۔۔ سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے بعد صرف محمد عامر ہی کی عالمی کرکٹ میں واپسی ہوئی۔۔۔ سلمان بٹ اور محمد آصف پر ہمیشہ کے لیے عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے ۔۔۔۔ دورہ انگلینڈ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے وقار یونس کی کوچنگ میں عرب امارات میں جنوبی افریقہ سے بھی سیریز ہاری مگر اس ہار کو ورلڈ کپ 2011 کی تیاریوں کا نام دے کر اس پر بھی مٹی ڈال دی گئی ۔۔۔


اب پاکستان کی ٹیم کی اگلی اسائمنٹ تھی 2011 کا جنوبی ایشیا میں کھیلا جانے والا تیسرا ورلڈ کپ ۔۔۔۔
سری لنکن ٹیم پر 2009 میں لاہور میں ہونے والے حملے کے کی وجہ سے پاکستان اس عالمی کپ کی میزبانی سے بھی محروم رہا اور اس کو اپنے تمام میچز سری لنکا اور بنگلہ دیش میں کھیلنے پڑے ۔۔۔۔ پاکستان نے سلو پچز اور بہترین اسپنرز کی بدولت با آسانی کواٹر فائنل میں رسائی حاصل کی اور پھر کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کو با آسانی 10 وکٹوں سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی جہاں اس کو روائیتی حریف بھارت سے 29 رنز سے شکست ہوئی ۔۔۔ اور پاکستان کا سفر اس عالمی کپ میں اختتام پذیر ہوا۔۔۔۔
اس عالمی کپ میں بھی کوچ وقار یونس کے ٹیم سے اختلافات کھل کے سامنے آئے ۔۔۔ پہلے شعیب اختر کی نیوزی لیںڈ سے شکست کے بعد دوران ورلڈ کپ اچانک ریٹائرمنٹ اور کپتان شاہد آفریدی سے اختلافات کی وجہ سے وقار یونس نے دوسری مرتبہ ٹیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔۔۔۔


وقار یونس کو تیسری مرتبہ مئی 2014 میں دو سال کے لیے پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ۔۔۔ 2015 میں آسٹریلیا میں کھیلا جانے والا عالمی کپ ان کی پہلی اہم اسائمنٹ تھا ۔۔۔۔
وقار یونس عمر اکمل کو بطور وکٹ کیپر بیٹسمین کھلانے پر بضد تھے جبکہ عمر اکمل اس پر راضی نہ تھے ۔۔۔ آدھا ٹورنامنٹ اسی بحث میں گزر کیا ۔۔۔ پہ در پہ شکستوں اور میڈیا کے بے پناہ دباو کے بعد بالاخر سرفراز کو جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے اوپنگ کرا دی گئی مگر انہوں نے بھی دھوکا نہیں دیا اور نہ صرف 49 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی بلکہ وکٹوں کے پیچھے 6 شکار کر کے پاکستان کو پہلی مرتبہ عالمی مقابلوں میں جنوبی افریقہ کے خلاف فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ سرفراز کو ان کی اس شانداد کارکردگی پر مین آف دی میچ کا حقدار قرار دیا گیا جبکہ میچ کے بعد میڈیا کے اس سوال پر کہ آپ سرفراز کو کیوں نہیں کھلا رہے تھے کوچ غصے میں بھی آ گئے ۔۔۔۔ اور پھر 2016 کے ٹی 20 میں ٹیم سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی ۔۔۔۔


ہیڈ کوچ وقار یونس نے اس بار کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ایک بار پھر اپنے عہدے کی معیاد مکمل ہونے سے پہلے ہی استعفی دے دیا مگر ان کے اس استعفی کی اصل وجہ اس بار بھی کپتان شاہد آفریدی سے اختلافات ہی تھے جو ان کی کرکٹ بورڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست سے متعلق رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آئے ۔۔۔۔


اپنی رپورٹ میں انہوں نے عمر اکمل اور احمد شہزاد سے متعلق بھی کافی سخت ریماکس دیئے تھے ۔۔۔۔ وقار یونس اپنی کوچنگ میں پاکستان کو کوئی اہم ٹورنامنٹ نہ جتوا سکے ۔۔۔۔اور ان کی کوچنگ کا ہر دور کپتان سے اختلاف کی بنا پر اختتام پذیر ہوا اور اس بار ٹیم کے کپتان وہی ہیں جن کو وہ 2015 کے عالمی کپ میں بطور کھلاڑی کھلانے پر بھی راضی نہ تھے ۔۔۔۔ نجانے اب ان کے اس کپتان سے کب اختلافات سامنے آ جائیں کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے موجودہ سیٹ اپ میں ان کے باس مصباح الحق ہیں ۔۔۔۔ گو مصباح نے ان کی کوچنگ میں کرکٹ کھیلی اور کپتانی بھی کی مگر اب وہ اس کرکٹ بورڈ کے ایک مضبوط عہدے دار ہیں اور وقار یونس کو ان کی بات نہ صرف سننا پڑے گی بلکہ ماننا بھی پڑے گی جو شاید ان کے مزاج کے خلاف بھی ہو۔۔۔۔ وقار یونس اپنے وقت کے ایک عظیم فاسٹ باولر تھے فاسٹ باولر عموما گرم مزاج ہی ہوتے ہیں مگر اس کو قسمت کا کھیل کہیں یا گردش ایام ان کو ایک ایسے باس کا سامنا ہے جو ضرورت سے زیادہ ہی ٹھنڈے دماغ کا انسان ہے اور ایک دھیمے مزاج کا بلے باز رہا ہے ۔۔۔۔ اب یہ پارٹنر شپ کب تک چلتی ہے اور کہاں جا کر ٹوٹ جاتی ہے اس کا اندازہ اگلی چند سیریز میں ہی ہو جائے گا مگر یہاں ایک آخری بات کہتا چلوں کہ وقار یونس کی باولنگ کا ایک ہی مزاج تھا
You hot or I hit
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ پہلے ہٹ کر کے دھیمے مزاج کا بلے باز کو پویلین کا راستہ دکھاتے ہیں یا مستقل مزاج بلے باز ان کو ہٹ کر کے باونڈری سے باہرپھنیکتا ہے ۔۔۔۔ مقابلہ دلچسپ رہے گا ۔۔۔۔۔۔

x

Check Also

پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں ...

%d bloggers like this: