dunya today

گھوٹکی، ہندو پروفیسر پر توہین مذہب کا الزام

گھوٹکی میں ہندو پروفیسر نوتن داس پر توہین مذہب کے الزام کے بعد ہنگامہ پھوٹ پڑا۔

پروفیسر نوتن داس تقریباً تیس سال سے علاقے میں ریاضی پڑھا رہے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرائیویٹ اسکول میں مذہبی منافرت پھیلنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر پرنسپل نے طلب علم کو اسکول سے نکال دیا۔

مقامی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے طالب علم نے پرنسپل نوتن لعل پر توہین رسالت کا الزام لگایا جس کے بعد شہر میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔


شہر کے معروف مندر پر حملہ کیا گیا جہاں موجود تمام مذہبی شبیہوں کو توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد پرنسپل کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔

حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ پرنسپل کو فوری گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے حالات کی نذاکت دیکھتے ہوئے پرنسپل کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔


مذہبی تنظمیوں کی جانب سے گھوٹکی بھر میں احتجاج جاری ہے۔ شہر کے کاروباری مراکز بند ہیں،پولیس اور رینجرز کے جوانواں نے علاقے کی سیکورٹی سنبھال لی ہے۔ تاہم اب بھی شہر میں شدید کشیدگی ہے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ہنگامہ برپا ہے اور گھوٹکی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا ہے۔

بلاول بھٹو نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ سندھ کو صورت حال پر قابو پانے کی ہدایت کر دی۔ بلاول بھٹو کی ہدایت پر ناصر شاہ اور سعید غنی گھوٹکی پہنچ گئے۔ ناصر شاہ اور سعید غنی معاملہ کو مزید روکنے اور مکمل تفصیل سے چئرمین بلاول بھٹو کو آگاہ کریں گے

x

Check Also

فضل الرحمان کی پریس کانفرنس، جیو نیوز نے کمال کردکھایا

%d bloggers like this: