dunya today

مقدمات کا فیصلہ 2 سال میں کرنا لازم

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنےکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے۔ سمن کے اجراء ، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سول پروسیجر کوڈ کا ترمیمی بل حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھتے موجودہ حکومت کے لیے مثبت قدم ہے، ایک نسل مقدمہ درج کرتی اور تیسری نسل تک پہنچ کر اس کا فیصلہ ہوتا تھا۔ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنےکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام میں خواتین کودستیاب وراثتی حق معاشرتی اورقانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو چکا تھاریاست مدینہ کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے معاشرے کے لیے پرعزم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل پانے والا یہ قانون خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے کندھوں پر ان بے گناہ اور معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کا بوجھ اٹھا لیا ہے جو کئی دہائیوں سے جیلوں میں قید تھے۔ خصوصی طور پر وہ خواتین، بچے اور دیگر مستحق و نادار قیدی جو قانونی مدد کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقدمات کی پیروی سے قاصر تھے۔ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل کی منظوری سے انہیں فوری انصاف کی فراہمی کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔

x

Check Also

ووٹر اور کاروباری طبقہ حکومت کے معاشی پروگرام کی تکلیف سے دوچار

ہر طبقہ حکومت کے معاشی پروگرام سےپریشان

 امریکی اخبار نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر لکھا کہ ووٹرز اور کاروباری طبقہ حکومت ...

%d bloggers like this: