جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایڈز اور کینسر کے مرض کا علاج

جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایڈز اور کینسر کے مرض کا علاج

چین کے ماہرین نے پہلی مرتبہ جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو ایڈز کے مریضوں کو ٹھیک کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایڈز سے متاثرہ یہ شخص بیک وقت خون کے سرطان (Acute Lymphoblastic Leukemia) کا بھی مریض ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مریض کا بلڈ کینسر ٹھیک ہو رہا ہے تاہم ایڈز کے علاج کیلئے جو خلیے ٹرانسپلانٹ کیے گئے وہ 19؍ ماہ بعد بھی نہ صرف صحتمند رہے بلکہ اس طریقہ علاج کا کوئی سائیڈ افکیٹ بھی نظر نہیں آیا۔ سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے CRISPR-Cas9 ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسے شخص (ڈونر) کے خلیوں کے نمونے حاصل کیے گئے جس کا جسم ایڈز کے وائرس کیخلاف مزاحمت رکھتا ہے۔ ڈونر کے خلیوں کی جینیاتی ایڈیٹنگ کرکے اسے ایڈز سے متاثرہ 27؍ برس کے مریض کے جسم میں شامل (ٹرانسپلانٹ) کیا گیا۔ ماہرین نے یہ اقدام اس توقع کے ساتھ کیا تھا کہ ایڈٹ کیے گئے جینیاتی خلیے بچنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ اپنی نقل بنا کر (Replicate) ایچ آئی وی کے خلیوں کو ختم کریں گے۔ جین ایڈیٹنگ کے عمل کا مقصد ایڈز سے متاثرہ CCR5 جین کو ختم

کرنا تھا۔ یہ سارا عمل آئی وی (انٹرا وینس) یعنی نبض کے ذریعے کیا گیا۔ جین ایڈیٹنگ کے دوران ماہرین ڈونر کے خون سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کے 17.8؍ فیصد حصے کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر اسے مریض کے جسم میں آئی وی پراسیس کے ذریعے ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا۔ 19؍ ماہ بعد جب مریض کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو ماہرین کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ نہ صرف ٹرانسپلانٹ شدہ خلیوں پر ایڈز کے وائرس نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ صحتمند تھے

x

Check Also

صحتیابی کے بعد بھی کورونا مریضوں کو نقصان ہوسکتا ہے، ماہرین

صحتیابی کے بعد بھی کورونا مریضوں کو نقصان ہوسکتا ہے، ماہرین

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت یابی کے بعد بھی کورونا وائرس کے مریضوں ...

%d bloggers like this: