کیا مائنس عمران ہورہا ہے؟

وفاقی حکومت میں مائنس عمران خان کی باتیں شہراقتدار کی فضاؤں میں گردش کر رہی ہیں۔

وزیر توانائی سوموار کو جی آئی ڈی سی پر پریس کانفرنس کرنے آئے تو ان سے بھی مائنس ون پر سوال ہوگیا۔

عمرایوب نے فوری طور پر افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہے اور مائنس عمران خان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے وضاحت کی ہے کہ جی آئی ڈی سی (گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس) آرڈیننس متعارف کروانے کا مقصد کھاد کی 5 کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ کروا کر کھاد کی قیمتیں کم کرنا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ کابینہ کا فیصلہ تھا کہ کھاد کی کمپنیوں کا آڈٹ کر کے اور ان کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ کر اس معاملے کو واضح کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی آرڈیننس کا اور کوئی مقصد نہیں تھا تاہم جب اس پر اعتراضات اٹھنا شروع ہوگئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں حل کیا جائے کیوں کہ ہم ٹھیک ہیں اور شفاف طریقے سے کام کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کے تحت حاصل کی جانے والی رقم، گیس انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریکوڈک اور کارکے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کررہی تھی۔

تاہم پاکستان عالمی ثالثی فورم پر ایک اور کیس ہارنا نہیں چاہتا اس لیے کاروباری تنازعات کو حل کرنے کے لیے عدالت کے باہر سمجھوتہ ضروری ہے اور اقتصادی تعاون کمیٹی کے حالیہ فیصلے پر تنقید غیر ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان پہلے ہی کارکے اور ریکوڈک کیس کے معاوضے کے سلسلے میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے جبکہ اس کیس میں جو معاوضہ پاکستان کو ادا کرنا ہے وہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر ہے، جس کو ہم چیلنج کریں گے۔

وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ 9 دیگر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) لندن کی عالمی ثالثی کی عدالت میں گئیں اور پاکستان کے خلاف 14 ارب روپے جیت لیے اگر ملک نے یہ ادائیگیاں کیں تو بیرونِ ملک موجود قومی اثاثے کم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت سے دیگر ممالک کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ معاملات ہمارے ساتھ ہوں اس وجہ سے ہم ان فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روش پاور کمپنی 425 میگا واٹ کا پلانٹ ہے، کمپنی نے ثالثی کے لیے رجوع کیا ہے، حکومت نے اس حوالے سے جامع تحقیقات کی ہیں اور کمپنی کا کیس میرٹ پر ہے اور اگر کمپنی تصفیہ کے لیے ثالث کے پاس جائے تو شاید اس کے حق میں فیصلہ ہو۔

وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت مسائل کو ختم کر رہی ہے اور ہم تونائی کے شعبے کے مسائل کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئے جس سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور کاروبار چلے گا۔

x

Check Also

موبائل فونز پر ٹیکسر میں کمی کا فیصلہ

پاکستان میں موبائل صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف ...

%d bloggers like this: