ٹیکس ریٹرن فارمز میں خامیوں کا انکشاف

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس ریٹرن فارم میں خامیوں کی وجہ سے بیشتر ٹیکس فائلرز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طے شدہ مدت میں ریٹرنز جمع نہیں کروا سکیں گے۔

کے ٹی بی اے کے صدر محمد ریحان صدیقی نے کہا کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ہماری تجاویز شامل کیے بغیر 2 ستمبر کو 2019 کے ٹیکس ریٹرن فارمز اپنی ویب پورٹل پر اپ لوڈ کردیے‘۔

اس حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے 23 اگست 2019 کو ٹیکس ریٹرن کا ابتدائی مسودہ جاری کیا تھا اور ملک کی ٹیکس بارز کو تجاویز اور رائے بیان کرنے کے لیے 7 روز کا وقت دیا تھا لیکن حیران کن طور پر ایف بی آر نے انفرادی، ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) اور تجارت کے لیے 2 ستمبر 2019 کو اپ لوڈ کردیے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رائے مانگنا محض رسمی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قلیل مدت کی وجہ سے کے ٹی بی اے 2019 کے لیے ٹیکس ریٹرن فارمز پر تجاویز نہیں دے سکا جو 65 صفحات پر مشتمل ہے۔

محمد ریحان صدیقی نے کہا کہ ٹیکس ریٹرن فارم میں بہت سی خامیاں تھیں جس پر کے ٹی بی اے نے ایف بی آر کو خط لکھا تھا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس برائے سال 2019 کے ٹیکس ریٹرن فارم کے مسودے پر 29 اگست کو تجاویز طلب کی تھیں لیکن 2 ستمبر 2019 کو اسے حتمی شکل دے کر ویب پورٹل پر اپ لوڈ کردیا گیا۔

صدر کے ٹی بی اے نے کہا کہ چند روز قبل تک نظام میں ٹیکس ریٹرن فائل کر نے کی آخری تاریخ 30 نومبر ظاہر ہورہی تھی لیکن اب وہ تاریخ تبدیل کرکے 30 ستمبر کردی گئی ہے۔

محمد ریحان صدیقی نے دعویٰ کیا کہ قانون کے تحت فارم کے اجرا کے بعد ایف بی آر کو ریٹرنز فائل کرنے کے لیے 90 روز کی مہلت لازمی دینی ہوتی ہے لیکن عاشورہ کے باعث ٹیکس دہندگان کے پاس صرف 20 سے 25 دن ہوں گے۔

انہوں نے ٹیکس واجبات پہلے ادا کرنے کے مطالبے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ اگر کوئی شخص ٹیکس ریٹرن فارم میں غلطی کی وجہ سے واجبات کا حساب نہیں لگاپا رہا تو وہ کیسے ادائیگی کرے گا۔

ان معاملات کے ماہر رضوان شعیب نے کہا تھا کہ ٹیکس ریٹرن فارمز میں خامیاں ہیں جس کے باعث انہیں فوری طور پر پُر نہیں کیا جاسکتا۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: