یومِ عاشور عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

سخت ترین مصائب کا سامنا کر نے کے باوجود حق اور سچ کا پرچم تھامے ہوئے اپنی اور اپنے رفقا کی جان کا نذرانہ پیش کر نے والے نواسہ رسول کی یاد میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی میں ماتمی جلوس نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں عزادار ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کررہے ہیں اس کے ساتھ شبہات کی زیارت کی جارہی ہے،

جلوسوں کے راستوں میں بڑی تعداد میں نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ جلوس کے اختتام پر مجالس برپا کی جائیں گی جس میں واقعہ کربلا اور اہلِ بیت کے فضائل و مراتب بیان کیے جائیں گے۔

ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جبکہ متعدد شہروں میں جلوس کی گزرگاہوں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔تحریر جاری ہے‎

عاشورہ کے سلسلے میں سیکیورٹی خصوصی طور پر ہائی الرٹ رکھی گئی ہے جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج کے جوانوں نے سیکیورٹی کے انتظامات سنبھال رکھے ہیں۔

کوئٹہ میں ماتمی جلوس

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علمدار روڈ پر بھی انتہائی سخت سیکیورٹی میں یومِ عاشور کا جلوس نکالا گیا جس کے شرکا نے باچا خان چوک پر پہنچ کر نمازِ ظہرین ادا کی۔

بعدا ازاں جلوس لیاقت بازار، پرنس روڈ اور دیگر روایتی راستوں سے گزرتا ہوا علمدرار روڈ آباد پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔

یومِ عاشور کے موقع پر شہر میں امن وعامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ حساس علاقوں اور چیک پوسٹوں پر کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ایف سی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات سے چھوٹے ماتمی جلوس نکالے گئے جو علمدار روڈ پر اکٹھے ہوئے۔

لاہور میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم عاشور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایاجارہا ہے، لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوا جو اپنے قدیمی راستوں موچی گیٹ، موری گیٹ، مسجد وزیر خان، پانی والا تالاب سے ہوتا ہوا رنگ محل پہنچے گا جہاں نماز ظہرین ادا کی جائے گی۔

جس کے بعد مرکزی جلوس بھاٹی گیٹ پہنچے گا اور شام کو کربلا گامے شاہ جا کر اختتام پذیر ہوگا،جلوس میں نوحہ خوانی، ماتم داری اور زنجیر زنی کی جارہی ہے جبکہ نذر و نیاز کا بھی سلسلہ جاری ہے۔

پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گیے ہیں 8 ہزار کے قریب پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، مرکزی جلوس کی سکیورٹی پر 14 ایس پیز، 24 ڈی ایس پیز، 87 انسپکٹرزتعینات ہیں۔

جلوس کے روٹ میں آنے والی تمام گلیوں کو خاردار تاریں اور بیرئرزلگا کر مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے،عزادار خواتین کے چیکنگ کے لئے لیڈیز پولیس اہلکار اور خواتین رضا کار بھی تعینات کی گئیں ہیں۔

جلوس کے روٹ میں آنے والی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات ہیں،جلوس کے شرکاء کو تین درجاتی سکیورٹی چیکنگ کے بعد ہی جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

کسی غیر متعلقہ شخص کو ہرگز جلوس میں داخل نہ ہونے دیا جائے گا،پولیس افسران کی جانب سے کہاگیا کہ پولیس افسران اور جوان انتہائی الرٹ رہیں عزاداروں کے مکمل منتشر ہونے تک کوئی جوان اپنا ڈیوٹی پوائنٹ نہ چھوڑے۔

پشاور میں یومِ عاشور

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پشاور کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی جلوس کی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات کاجائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دیگروزراء کے ہمراہ محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم کا دورہ کیا اس دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سیکیورٹی فورسز کے اقدامات پر مطمئن دکھائی دیے۔

پشاور میں 10 محرم کے جلوسوں کی حفاظت کے لئے موثر انتظامات کئے گئے ہیں، شہربھر میں 5 ہزار پولیس اور 2 ہزار ٹریفک اہلکاروں کوتعینات کیا گیا ہے جبکہ شہرمیں موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔

دوسری جانب لکی مروت میں بغیر شناختی کارڈ دکھائے نقل و حمل پر پابندی عائد ہے، کوئٹہ اور پشاور میں موبائل فون نیٹ ورکس مکمل بند ہیں جبکہ دیگر شہروں میں موبائل سروس جلوسوں کے راستوں پر بند ہے۔

صدر اور وزیراعظم کے پیغامات

یوم عاشور 10محرم الحرام 1441ہجری کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ نواسہ رسولﷺ امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلا میں یومِ عاشور کو شہادت پاکر تاریخ اسلام میں اس دن کو تاقیامت انمٹ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانی ہرسال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ فسق و فجور کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ ہم اُسوہ حسینؓ کی روشنی میں ہر وہ کام کریں گے جو اعلائے کلمة اللہ ، فروغ حق، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مفید ہواور دہشت گردی ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لئے مختلف اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاریخ اسلام میں اس دن کو ایک الگ رفعت و بلندی اور خاص اہمیت و انفرادیت امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت اورواقعہ کربلا کی بدولت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہ عظیم معرکہ حق و باطل، یہ بات باور کراتا ہے کہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کے فروغ و احیاءکے لیے اپنی یا اپنے پیاروں، شیر خوار بچوں، کڑیل جوان بیٹوں ، بھائیوں اور ساتھیوں کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی جانوں کے علاوہ اپنا سب کچھ راہ خدا میں دین اسلام کی سر بلندی کے لئے نچھاور کردینا ہی عظمت اور کامیابی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جذبہ شبیری ؓ مسلمانوں کے ایمان و یقین، سچائی اور اصول پرستی کی روایت کو جلا بخشتا ہے اور یہ اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی لازوال اور روح پرور روایت کی آبیاری کا سرچشمہ ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں مشکل سے ہی ملتی ہے

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: