تم کبھی نہیں بدلو گے۔۔۔!

تم کبھی نہیں بدلو گے۔۔۔!

 تحریر : ڈاکٹر فراز

تم کبھی نہیں بدلو گے۔۔

تمہاری دیر سے آنے کی عادت کبھی ختم نہیں گی،کچھ بھی ہو جائے تم لیٹ ہی آتے ہو،کسی جگہ ٹائم پر نہیں پہنچتے ۔

تم کبھی سچ نہیں بو ل سکتے ،انا پرستی بھی نہیں چھوڑ سکتےبعض والدین بچوں میں جارحیت اور تشدد پیدا کرنے کے ذمہ دارہیں
تم تو کبھی سچ بول ہی نہیں سکتے،کتنی بار سمجھایاہے کہ اس جھوٹ کے ہزار نقصان ہیں مگر تم ہو کہ سمجھتے ہی نہیں۔

دیکھو ،اس میں غصہ کتنا ہے،باپ کی طرف سے ہی آیا ہو گا، وہ بھی ہر وقت لڑتا رہتا تھا، پورے محلے میںاس کی کسی سے بنتی ہی نہیں تھی،

واہ بھئی۔۔تم تو اپنے باپ کی طرح ذہین ہو،کیا بات ہے کمال ہی کر دیا، میٹرک میں تمہارے ابو کے بھی اتنے ہی نمبر تھے،باپ کے نقش قدم پر چل کر ان کا ہی نام روشن کرو گے۔

وہ تو صبح چار بجے ہی اٹھ جاتا ہے،بہت ہی صبح کام شروع کر دیتا ہے،اس کا باپ بھی اسی طرح کرتا تھا، علی الصبح ہی بیدار ہو کر کام کاج پر نکل جاتا تھا۔

ماہرین سائنس نے حال ہی میں ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ ہر بچہ اپنے والدین سے کم ازکم 27 عادتیں حاصل کرتا ہے جن پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا، یہ باتیں اس کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔وہ انجانے میں اپنے ہی باپ یا ماں کی نقل کر رہا ہوتا ہے، نہ اسے معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے والدین یہ جانتے ہیں کہ بچہ جو کچھ آج کرر ہا ہے وہ ماضی میں اس نے انہی سے سیکھا ہوتاہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی 27عادتیں اور بیماریاں ہیں جو بچے کو اپنے والدین سے ورثے میں ملتی ہیں

ناشکراپن

ہم نے اپنے ارد گرد لاتعدا دلوگ ایسے دیکھے ہوں گے جو کسی بھی بات پر دوسرے کا شکریہ کرنے کی بجائے کام میں کیڑے نکالتے ہیں، برائیاں تلاش کرتے ہیں ۔جیسا کہ کام ہو تو گیا تھا لیکن اس نے چکر بھی بہت لگائے تھے۔یا یہ کہ یہ کام اس نے تھوڑی کیا ہے میں نے تو کئی اورلوگوں سے بھی کہا ہوا تھا،انہوں نے کر دیا ہے۔اب تو سائنسدانوںنے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ عادت بچوں میں اپنے ماں یا باپ کی طرف سے بھی آسکتی ہے یعنی ان کے جنیز میں بھی شامل ہوسکتی ہے ، اس صورت میںوہ ا سے بدل تو سکتے ہیں مگر مشکل سے۔اس سلسلے میں 2014 سے ایک تحقیق پر کام جاری تھا۔جو اس وقت (Evolution and Human Behavior)نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔جس میں سائنس دانوںنے کہا تھا کہ کچھ لوگ کم اور کچھ زیادہ ہی ناشکرے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اس قسم کی باتیں ان کے والدین کی جانب سے بھی ملتی ہیں۔

نیند رات بھر کیوں نہیں آتی!

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض لوگ بہت مطمئن ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی نیند ان سے کوسوں دور ہوتی ہے۔رات بھر نہیں آتی،وقت کروٹیں بدلتے میں ہی گز ر جاتا ہے۔یا آپ رات کے وقت گھر میں ہی اٹھ کر چہل قدمی شروع کر دیتے ہیں۔لوگ اس کا علاج کرانے کے لئے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں اور اپنے اندر خامیاں تلاش کرتے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ اس میںآپ کا کوئی قصور نہ ہو۔اس سلسلے میںآپ کو اپنی ماں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ عادت ان کی جانب سے بھی موروثی طور پر آپ میں آ سکتی ہے۔نیندنہ آنے (Insomia) کے بارے میں’’یونیورسٹی آف واروک‘‘ میں 2017 ء میں ایک زبردست تحقیق ہوئی تھی۔تحقیق سے سائنس دانوں نے یہ ثابت کیا تھا کہ جن بچوں کی مائوں کو دیر سے سونے کی عادت ہوتی ہے ان کے بچے بھی اس عادت کو اپنا لیتے ہیں۔وہ بھی دیر سے سونا شروع کر دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ عادت ماحول کے باعث زیادہ شدید ہو جاتی ہے ۔

ناقص ڈرائیونگ

2009ء میں یونیورسٹی آف کیلے فورنیا نے ڈرایئونگ پر تحقیق کی ،انہوںنے یہ دیکھنا چاہا کہ اگر کسی کے ماں باپ برے ڈرائیور ہیں تو کیا ان کا بچہ بھی خراب ڈرائیور کر کے سڑک پر ٹریفک جام کرنے کا سبب بن سکتا ہے ؟تو اس کے نتائج حیران کن حد تک مثبت نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ ہر دس میں سے تین بچوں کے ماں باپ بھی خراب ڈرائیونگ کے ’’ماہر‘‘تھے۔انہوں نے دیکھا کہ ایک خاص قسم کی پروٹین (BDNF) اس میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے ،یہ دماغ کے یادداشت اور جسمانی حرکت کے مابین رابطے کا کام کرتی یہ ہے۔بری ڈرایئونگ کرنے والوں میں اس قسم کی پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔جس سے انہیں صحیح ڈرائیونگ کو یادیا حفظ کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔اس قسم کے لوگ زیادہ حادثات کا سبب بنتے ہیں،یہ بھی موروثی طور پر کم پیدا ہو سکتی ہے۔

چہرے کے تاثرات

یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ آنکھ ، ناک اور چہرہ ہمارے والدین پر جا سکتا ہے،مگر ’’امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن‘‘ نے کہا ہے کہ چہرے کے تاثرات میں بھی آپ اپنے ماں باپ پر جا سکتے ہیں۔کچھ لوگ عمر چور ہوتے ہیں یہ بات ان کے جینز میںبھی شامل ہو سکتی ہے۔کچھ لوگ غصہ اور پریشانی چھپا نہیں سکتے۔یہ عادت بھی انہیں اپنے والدین سے بھی ورثے میں ملتی ہے۔سائنس دانوں نے بتایا کہ اگرایک ہی والدین کے دو بچوں کو الگ الگ رکھا جائے،وہ ایک دسرے سے کبھی بھی نہ ملے ہوں تب بھی ان کی عادات ایک جیسی ہو سکتی ہیں۔

ذہانت

2016ء میں امریکی جریدے ’’سائنٹیفک میگزین‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق بحث مباحثے اور سائنسی مضامین میں دل چسپی کا تعلق جین سے بھی ہوتا ہے۔سمارٹ والدین کے بچے بھی سمارٹ ہو سکتے ہیں۔بشرطیکہ والدین اپنے بچوں کو ٹائم بھی دیں۔کنگس کالج لندن نے بھی ذہانت اور والدین کے تعلق پر تحقیق کر کے اس میںماں باپ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

جارحیت اور غصہ

بچوں میں جارحیت اور غصہ کیونکر سرایت کر جاتا ہے ؟اس پر کئی تحقیق ہو چکی ہیں جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انتہائی بچپن میں بچوں کو ماردھاڑ والے کھلونے دینے اور انہیں توڑ پھوڑ میں لگانے سے بچوں میں جارحیت اور غصہ بھر جاتاہے ۔اس کے ذمہ دار والدین ہی ہیں۔جو بچپن میں ان کی جارحانہ بات کو خوش ہو کر ٹال دیتے ہیں، مگر یہی بات بڑے ہوکر مصبت بن جاتی ہے۔

ورزش کے بارے میں تاثرات

بعض افراد تھوڑا سا بھاگ کر تھک جاتے ہیں،اور کچھ بہت دیر ورزش کر سکتے ہیں۔2015ء میں ’’Medicine & Science in Sports & Exercise‘‘نامی جریدے نے لکھا کہ اس کا تعلق بھی وراثت سے ہو سکتا ہے۔تکان کا احساد دلانے میں ڈوپامین نامی ایک کیمیکل نمایاں کردار ادا کرتا ہے، یہ لوگ ورزش سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیفین سے مدہوشی !

اس وقت امریکہ میں کیفین کے بغیر دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا ،ہمارے ہاں بھی صبح یعنی بیڈ ٹائم ٹی کے بغیر سورج ہی نکلتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔یہ ایک لازمی ضرورت بن چکی ہے۔جبکہ کچھ دن میں کئی کپ بھی پی لیں تو بھی کیفین کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ پھر اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ آپ کا دماغ Adenosineاورڈوپامین نامی کیمیکلز کو کس طرح سے پراسیس کرتا ہے،زیادہ پراسیس ہونے کی صورت میں آپ نیند میں چلے جاتے ہیں۔

شہرت اورمقبولیت کاحصول اور خواہش

اگر آپ مقبول ہونا چاہتے ہیں تو پھر5HT2A Serotonin Receptor نامی کیمیکل آپ کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتاہے2009ء میں مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی نے ایک تحقیق میں بتایا کہ جن لوگوں میں یہ مادہ زیادہ پایا جاتا ہے وہ عام ڈگر سے ہٹ کرکوئی نیا اور بہتر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہی لوگوں میں عام ضابطے توڑنے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔یعنی یہ قانون شکن بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ پارٹیوں میں شرکت اوردوسروں سے میل ملااپ بڑھانے کے بھی شوقین ہوتے ہیں۔

تاخیری حربے

اتنی جلدی کیا ہے، کل ہو جائے گا۔آج بہت مصروف ہوں ،کل دیکھ لوں گا۔یہ لوگ جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیا ر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو سرکاری دفاتر میں تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ انٹرویو کے وقت بھی ان سے اس بارے میں پوچھنا بہتر رہے گا۔سائیکولوجیکل سائنس میں 2014ء میں چھپنے والی ایک رپورٹ سے پتہ چلا کہ اس رجحان کا تعلق جین سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسی جریدے میں 2018ء میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ نے اس تحقیق کی تصدیق کی۔دماغ کا Emotional Process Center اس کا ذمہ دار ہوتا ہے،جس کا تعلق جین سے بھی ہے ۔

ڈاکٹر کا خوف

بچے ہی نہیں، کچھ بڑے بھی ڈاکٹروں کے پاس جانے سے گھبراتے ہیں۔International Journal of Pediaritic Dentistryمیں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ کے والد ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے گھبراتے ہیں تو ان کی یہ عادت آپ میں بھی آ سکتی ہے۔اگر گھر میں والد اس سے پریشانی یا گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں تو بیٹے اور بیٹیاں بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔

درد کی برداشت

کچھ لوگ معمولی تکلیف پر ہائے ہائے کرتے رہتے ہیںا ور کچھ شدید سے شدید درد بھی آسانی سے سہ جاتے ہیں۔اس کا تعلق بھی اس بات سے ہو سکتا ہے کہ آپ کے والد یا والدہ درد کو کتنا محسوس کرتے ہیں۔ان کی یہ بات آپ میں بھی آ سکتی ہے۔

بڑھاپا کیسے آتا ہے؟

آپ چہرے سے کتنے بوڑھے لگتے ہیں اس کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے ڈی این اے کے ہر کرموسوم کے کونے میں موجود Telomeresکی افزائش کس طرح ہو رہی ہے۔یہ جتنے بہتر ہوں گے اتنے ہی آپ جوان دکھائی دیں گے۔’’Nature Genetics‘‘میں شائع شدہ مضمون کے مطابق ٹیلومیئرز میں پانچ لاکھ کے اضافے کا مطلب ہی ہو گا کہ آپ اپنے ہم عمر سے تین سے چار سال بڑے لگیں گے۔ٹیلومیئرز کی پیداوار موروثی طور پر بھی کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

مٹھائی کا شوق

اگر کسی کے سامنے چاکلیٹ،چپس ،ٹافیاں جیسی کئی میٹھی اور نمکین چیزیں پڑی ہوں تو آپ ان میں سے کون سی چیز پسند کریں گے؟اس کا تعلق بھی جین سے ہے۔آپ کے دانت مٹھاس پسند ہے یانمک؟یہ بھی FGF21کہلانے والی جین ہی بتائے گی۔

مکھن کی مصنوعات کے دیوانے

ہمارے ہاں بہت سے نوجوان مکھن کو سرے سے پسند ہی نہیںکرتے جبکہ کچھ کا ناشتہ مکھن کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔اس کا تعلق TAS2R38نامی جین سے ہے۔یہ جین وراثتی طور پر مکھن کی غذائوں کو پسندید یا ناپسند کرنے بارے میں خواہشات بیدار کرتی ہے۔

خطرات سے خوف

آپ نے اکثر ہی دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ کر دیا تو وہ ہو جائے گا ۔۔وغیرہ وغیرہ ۔وہ نتائج سے ہر وقت گھبراتے رہتے ہیں۔عام زندگی میں ہی نہیں یہ لوگ تیز رفتار کاروں یا تفریح گاہوں میں جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔اس سلسلے میں Scandinavian Journal of Medicine & Science میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق اس کا تعلق بھی جین سے تعلق ہے جو ہر وقت فرد کو ڈراتی رہتی ہیں اور وہ بے چارہ کسی کھیل میں بھی حصہ نہیں لے پاتا۔

پر امیدی

2011ء میں ’Proceedings of the National Acedemy Sciences ‘‘کے مطابق دماغ میں پرامیدی پیداکرنے والے ایک خاص قسم کے کیمیکل کی کی یا زیادتی اس پر اثر ڈالتی ہے۔اسے Oxitocin Receptors بھی کہا جاتا ہے۔ان لوگوں کا اپنی زندگیوں پر کنٹرول ہوتا ہے، اور یہ بنا سوچے سمجھے کوئی حرکت نہیں کرتے۔

غم گزاری، ہمدردی

غم گزاری اور ہمدردی کے جذبات بھی اللہ کی دین ہیں یہ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ہوتے ہیں۔2011ء میںنیشنل اکیڈمی آف سائنس نامی جریدے کی رپورٹ ے مطابق اس کا تعلق بھی جین سے ہے۔یہ اللہ نے انسان کی فطرت میں شامل کر دی ہے اسی لئے کچھ لوگ انتہائی سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ بات بات پر رونا شروع کردیتے ہیں ۔آ پ نے فلمیں دیکھتے ہوئے بھی کئی لوگوں کو روتے دیکھا ہو گا ۔ یہ افراد اسی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں۔

دوسروں پر بھروسہ

آپ دوسروں پرکتنا بھروسہ کرتے ہیں اس کا تعلق بھی جین سے ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی آف ایر زونامیں 2017میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے ہمیں پتہ چلا کہ اس کا تعلق بھی جین سے ہے۔ اور یہ لوگ کہیں بھ چلے جائیں ایک جیسے ہی رد عمل کا مظاہرہ کریں گے۔حتیٰ کہ ٹوئن میں بھی بھروسہ کرنے کی عادت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

علی الصبح بیداری

کچھ لوگ دیر تک سوتے رہتے ہیں اور کچھ صبح ہی بیدار ہو کر اپنے کام کاآغاز کر دیتے ہیں۔’’نیچرکمیونیکشن سائنسز‘‘نامی جریدے میں90ہزار افراد پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ آپ الوئوں کی طرح جاگتے ہیں یاآپ کی آنکھ سورج کی پہلی کرن سے بھی پہلے کھل جاتی ہے۔اس سلسلے میںتحقیق نے بتایا کہ 15اقسام کی جینز اس کی ذمہ دار ہیں۔جو انسان کو دیر تک سلاتی ہیں یا صبح صبح اٹھاتی ہیں۔

x

Check Also

آئی فون 11 کی پاکستان میں کتنے کا؟

معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون 11 کے نئے ماڈلز متعارف کرادیے جن ...

%d bloggers like this: