لیڈی پولیس اہلکار تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت پر برس پڑی

لیڈی پولیس اہلکار تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت پر برس پڑی

شیخوپورہ کے علاقے فیروز والا میں لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت ہوگئی۔

وکیل کی بدسلوکی کا شکار لیڈی پولیس اہلکار وکیل کی ضمانت پر برس پڑیں اور کہا کہ کیا یہی ہے عورت کی عزت کہ کوئی بھی اسے سرعام تھپڑ مار کر چلا جائے۔

لیڈی کانسٹیبل نے چیف جسٹس پاکستان اور صدر مملکت سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

جج نے تشدد کرنے والے وکیل احمد مختار کا نام احمد افتخار لکھنے کی غلطی کا فائدہ ملزم کودیا اور ضمانت دے دی، لیڈی کانسٹیبل سے پوچھا تک نہیں کہ تمھیں تھپڑ کس نے مارا؟

کیا ایف آئی آر کاٹنے والے پولیس اہلکار نے اپنی ہی پیٹی بند ساتھی کے خلاف سازش کی؟ پنجاب پولیس اپنا مقدمہ صحیح طور پر نہ لڑسکی، دوسروں کو انصاف کیا دلائے گی؟ اس واقعے نے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

خواتین پر تشدد معاشرتی رویوں کا عکاس ہے، فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے یونیفارم میں ملبوس عورت کی طرف سے تحفظ مانگنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد معاشرتی رویوں کا عکاس ہے، تھپڑ کھانے والی لیڈی کانسٹیبل کے پیٹی بند بھائی نے وکیل کو ریلیف دینے کیلئے ایف آئی آر میں غلط نام کا اندراج کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو چاہیے کہ اپنی پولیس میں کالی بھیڑوں کا پتا لگانے کیلئے ’منجی تلے ڈانگ پھیریں‘۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پنجاب پولیس کے کینسر کا علاج ڈسپرین سے نہیں ہوگا، اس کیلیے بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔

وکیل نے ملک بھر کی ورکنگ لیڈیز کو تھپڑ مارا، سماجی کارکن

معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے کہا ہے کہ فیروز والا کے وکیل نے صرف ایک لیڈی کانسٹیبل کو نہیں بلکہ پورے ملک کی ورکنگ لیڈیز کو تھپڑ مارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔

۔جیو نیوز سے گفتگو میں فرزانہ باری نے کہا کہ خاتون اہلکار پر ہاتھ اٹھانے والے کی ضمانت ہونا وکیل گردی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، جس سے ایک خاتون کے ساتھ پولیس کی وردی کی بھی توہین ہوئی ہے۔

شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار وکیل کی حمایت میں سامنے آگئی

ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں سامنے آگئی ہے۔

آج فیروز والا کچہری میں خاتون اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں ریلی نکالی گئی۔

فیروز والا کچہری میں ہڑتال کی گئی اور عدالت میں پولیس کا داخلہ ممنوع ہونے کے بینر بھی لگا دیے گئے۔

صدر شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار رانا زاہد نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں بیان دیا کہ پولیس نے جس طرح ان کے وکیل ساتھی کو عدالت میں پیش کیا وہ غنڈہ گردی ہے، وکیل اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

وکیلوں کے مظاہرے کے بعد پولیس بیک فٹ پر چلی گئی

فیروز والا کچہری میں لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں وکیلوں کے مظاہرے کے بعد پولیس بظاہر بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شیخوپورہ کا وکیل کی گرفتاری اور عدالت پیشی پر وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے کہا کہ کارروائی وکیل برادری کیخلاف نہیں بلکہ فرد کے قابل مذمت جرم کیخلاف کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا میں خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کو اُسی لیڈی کانسٹیبل نے ہتھکڑیاں لگاکر عدالت میں پیش کیا تھا۔

فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار نے احمد مختار نامی وکیل کو لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پارک کرنے سے منع کیا تھا جس پر وکیل احمد مختار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل سے بدتمیزی کی اور تھپڑ مارا تھا۔

شیخوپورہ کے علاقے فیروز والا میں لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت ہوگئی۔

وکیل کی بدسلوکی کا شکار لیڈی پولیس اہلکار وکیل کی ضمانت پر برس پڑیں اور کہا کہ کیا یہی ہے عورت کی عزت کہ کوئی بھی اسے سرعام تھپڑ مار کر چلا جائے۔

لیڈی کانسٹیبل نے چیف جسٹس پاکستان اور صدر مملکت سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

جج نے تشدد کرنے والے وکیل احمد مختار کا نام احمد افتخار لکھنے کی غلطی کا فائدہ ملزم کودیا اور ضمانت دے دی، لیڈی کانسٹیبل سے پوچھا تک نہیں کہ تمھیں تھپڑ کس نے مارا؟

کیا ایف آئی آر کاٹنے والے پولیس اہلکار نے اپنی ہی پیٹی بند ساتھی کے خلاف سازش کی؟ پنجاب پولیس اپنا مقدمہ صحیح طور پر نہ لڑسکی، دوسروں کو انصاف کیا دلائے گی؟ اس واقعے نے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

خواتین پر تشدد معاشرتی رویوں کا عکاس ہے، فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے یونیفارم میں ملبوس عورت کی طرف سے تحفظ مانگنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد معاشرتی رویوں کا عکاس ہے، تھپڑ کھانے والی لیڈی کانسٹیبل کے پیٹی بند بھائی نے وکیل کو ریلیف دینے کیلئے ایف آئی آر میں غلط نام کا اندراج کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو چاہیے کہ اپنی پولیس میں کالی بھیڑوں کا پتا لگانے کیلئے ’منجی تلے ڈانگ پھیریں‘۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پنجاب پولیس کے کینسر کا علاج ڈسپرین سے نہیں ہوگا، اس کیلیے بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔

وکیل نے ملک بھر کی ورکنگ لیڈیز کو تھپڑ مارا، سماجی کارکن

معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے کہا ہے کہ فیروز والا کے وکیل نے صرف ایک لیڈی کانسٹیبل کو نہیں بلکہ پورے ملک کی ورکنگ لیڈیز کو تھپڑ مارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔

۔جیو نیوز سے گفتگو میں فرزانہ باری نے کہا کہ خاتون اہلکار پر ہاتھ اٹھانے والے کی ضمانت ہونا وکیل گردی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، جس سے ایک خاتون کے ساتھ پولیس کی وردی کی بھی توہین ہوئی ہے۔

شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار وکیل کی حمایت میں سامنے آگئی

ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں سامنے آگئی ہے۔

آج فیروز والا کچہری میں خاتون اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں ریلی نکالی گئی۔

فیروز والا کچہری میں ہڑتال کی گئی اور عدالت میں پولیس کا داخلہ ممنوع ہونے کے بینر بھی لگا دیے گئے۔

صدر شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار رانا زاہد نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں بیان دیا کہ پولیس نے جس طرح ان کے وکیل ساتھی کو عدالت میں پیش کیا وہ غنڈہ گردی ہے، وکیل اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

وکیلوں کے مظاہرے کے بعد پولیس بیک فٹ پر چلی گئی

فیروز والا کچہری میں لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں وکیلوں کے مظاہرے کے بعد پولیس بظاہر بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شیخوپورہ کا وکیل کی گرفتاری اور عدالت پیشی پر وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے کہا کہ کارروائی وکیل برادری کیخلاف نہیں بلکہ فرد کے قابل مذمت جرم کیخلاف کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا میں خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کو اُسی لیڈی کانسٹیبل نے ہتھکڑیاں لگاکر عدالت میں پیش کیا تھا۔

فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار نے احمد مختار نامی وکیل کو لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پارک کرنے سے منع کیا تھا جس پر وکیل احمد مختار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل سے بدتمیزی کی اور تھپڑ مارا تھا۔

x

Check Also

ہر 40 سیکنڈ میں ایک خودکشی

دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے اور ہر سال ...

%d bloggers like this: