کرتاپور راہداری پر مذاکرات میں کیا ہوا؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری پر مذاکرات کا ایک دور اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں تین نکات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔اسی وجہ سے معاہدے کا حتمی مسودہ بھی تیار نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق بھارت گردوارہ آنے والوں کے لیے بیس ڈالر فیس پر اعتراض کیا جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ فیس گردوارے میں داخلے کی نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں اور سروسز کی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے اعتراض کیا کہ درشن پوائنٹ پر بھی پانچ ہزار فیس لی جاتی ہے۔

پاکستان نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں یاتریوں پر پاکستانی قوانین لاگو ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق بھارت پاکستانی قوانین لاگو کرنے کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے۔

بھارت کا مطالبہ ہے کہ بھارتی قونصلر کو گردوارہ دفتر میں تعینات کیا جائے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جب امیگریشن ہی نہیں تو قونصلر کی تعیناتی بلاجواز ہے۔

دفترخارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے تمام اہم اور بیشتر نکات پر بھرپور لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار یاتریوں کی روزانہ آمد پر پاکستان نے اتفاق کیا ہے۔ یاتریوں کو ویزہ فری انٹری ملے گی۔

پاکستان کی طرف سے بھرپور لچک دکھانے کے باوجود بھارت چھوٹے اور غیر ضروری نکات پر لچک دکھانے کو تیار نہیں اور بھارتی رویے کی وجہ حتمی مسودہ تیار نہیں ہو سکا۔

پاکستان نے حتمی مسودے کی تیاری کے لئے مذاکرات کا اگلا دور جلد از جلد کرانے کی پیشکش کر دی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کھنچاؤ کے ماحول میں ہوئے۔

x

Check Also

وفاق کا حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار

وفاق کا آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار

وفاقی حکومت نے حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے ...

%d bloggers like this: